چار اساتذہ نے خود کو خود ہی ملازمت پر رکھا، وزیر اعلی کے جاری کردہ اجازت نامے کے احکامات کی خلاف ورزی، کانٹریکٹ قوانین کی خلاف ورزی، ادارے کی مجاذ اتھارٹیز سنڈیکیٹ، سینیٹ اور اکیڈمک کاؤنسل پر 10 سے زائد کانٹریکٹ ملازمین کو غیر قانونی طور پر منتخب کیا،  شہری کی جانب سے دائر آئینی درخواست کی سماعت جسٹس محمد سلیم جیسار اور جسٹس نثار احمد بھنبھرو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔درخواست گزار کے وکیل عامر جمال پنھور نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 10 ستمبر 2022 کے اشتہار، بعد ازاں سلیکشن بورڈ کے اجلاس اور 28 ویں سنڈیکیٹ اجلاس میں کی گئی منظوریوں کے ذریعے متعدد تقرریاں مبینہ طور پر سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی ایکٹ 2011 اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قواعد و ضوابط کے برخلاف کی گئیں۔
وکیل عامر جمال پنھور نے  عدالت کو بتایا کہ زیادہ تر سندھ مدرستہ کے اپنے ملازمین کو مبینہ طور پر غیر قانونی فائدہ دیا گیا، جبکہ تقرریوں کے عمل میں شفافیت، میرٹ اور مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مذکورہ تقرریوں، سلیکشن بورڈ کی کارروائی اور سنڈیکیٹ منظوری کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔کانٹریکٹ کی منظوری پر بھرتی ملازمین  کو  پروبیشن پر رکھا گیا، اورایس ایم آئی ایکٹ کے مطابق  کانٹریکٹ کے قوانین کی پاسداری نہیں  کی گئی،  پھر ان میں سے کئی کانٹریکٹ  کی منظوری پر بھرتی ملازمین جن میں آصف حسین سمو، قرت العین نظیر، محمد نعیم،  ڈاکٹر عبدلحفیظ خان، شاہد عبید ، عنایت مگسی، عمیر رعیس  اور دیگر سنڈیکیٹ اور دیگر اتھارٹیز  کے ممبران بن گئے ، جس کے بعد وہ جامعہ کے اہم ترین فیصلوں پر اثر انداز ہورہے ہیں، درخواست گزار نے سنڈیکیٹ، سینیٹ اور اکیڈمک کائونسل کے انتخابات کو بھی چیلینج کردیا، عدالت نے درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد متعلقہ حکام اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔