سندھ اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی تاریخی قرارداد ”سندھ ایک ہے“ کا متن ایوانِ صدر، وزیراعظم سیکریٹریٹ، سینیٹ اور قومی اسمبلی کو باضابطہ طور پر ارسال کر دیا گیا ہے۔ سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ کی طرف سے یہ مسودہ صدرِ مملکت اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹریز کو بھی بھجوایا گیا ہے۔

ارسال کردہ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ سندھ ایک ہے اور ایک ہی رہے گا۔ قانونی اور آئینی قواعد و ضوابط کے تحت تمام متعلقہ وفاقی اداروں اور حکام کے لیے سندھ اسمبلی کی منظور شدہ قرارداد پر عمل درآمد کرنا ضروری ہے، جبکہ متعلقہ حکام کو 30 دن کے اندر اپنا باضابطہ جواب جمع کرانا ہوگا۔

اگر مقررہ مدت کے اندر قرارداد پر عمل درآمد نہ ہوا یا کوئی جواب موصول نہ ہوا تو سندھ اسمبلی میں متعلقہ حکام کے خلاف تحریکِ استحقاق پیش کی جا سکتی ہے۔ آئینی ضوابط کے مطابق، سندھ اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ عمل درآمد نہ کرنے والے متعلقہ حکام اور افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب کر کے ان سے جواب طلب کر سکے۔