جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نئے صوبے بنانے کے خلاف نہیں ہیں، لیکن وقت اور حالات کو بھی دیکھنا چاہیے، یکطرفہ فیصلہ مسلط کرنے کے بجائے اس پر بحث ہونی چاہیے۔ لاہور کے وحدت روڈ کرکٹ گراؤنڈ میں ختمِ نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 6 ستمبر 1965ء پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کا واقعہ ہے، جبکہ 7 ستمبر 1974ء پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کا دن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو سیاسی طور پر کمزور کیا گیا ہے، عوام ہیں تو ریاست ہے۔ ہم یونٹس یا صوبے بنانے کے خلاف نہیں ہیں لیکن وقت اور حالات کو دیکھنا ضروری ہے، کوئی فیصلہ یکطرفہ طور پر نہیں مسلط کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں میں معدنی ذخائر موجود ہیں اور 18ویں ترمیم کے تحت صوبے ان کے مالک ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔ پیپلز پارٹی صرف سندھ کی بات کرتی ہے اور ن لیگ خاموش ہے۔ نئے صوبوں کے لیے ایک ”کاکے“ کو آگے کیا گیا ہے جس کی حیثیت ذاتی ملازم جتنی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم دو قومی نظریے کی بنیاد پر ایک قوم نہیں بن سکے، یہاں لسانی بنیادوں پر فسادات کرائے گئے اور ہم نے پاکستان کی بنیاد بیرونی قرضوں پر رکھ دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوآبادیاتی نظام ختم ہو چکا ہے لیکن عالمی ادارے آج ہمارے ملک کے فیصلے کر رہے ہیں۔ ہم عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے قرضوں کے محتاج بن چکے ہیں، اور اگر ہماری معاشی پالیسیاں وہ طے کرتے ہیں تو یہ بھی نوآبادیاتی نظام ہی کی ایک شکل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم پاکستان کے غریب انسان کو عزت والی زندگی دینا چاہتے ہیں۔ اشرافیہ اور جابرانہ سیاست نہیں چلے گی، اور نہ ہی طاقت کی بنیاد پر فیصلے مسلط کرنے کی سیاست چلے گی۔ Post navigation ”سندھ ایک ہے، ایک ہی رہے گا“: سندھ اسمبلی کی قرارداد ایوانِ صدر اور وفاقی اداروں کو ارسال پاکستانی کال سینٹر سے امریکا میں 70 کروڑ ڈالر سے زائد کا فراڈ ، 5 پاکستانی شہری ملوث