کراچی : پاکستانی کال سینٹر سے امریکا میں 70کروڑ ڈالر سے زائد کے فراڈ کا انکشاف سامنے آیا ، جس میں 5 پاکستانی شہریوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی حکام نے بڑے فراڈ کیس کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے 5 پاکستانی شہریوں پر امریکی محکمہ صحت سے مبینہ طور پر 70 کروڑ ڈالر سے زائد کے جعلی کلیمز کے ذریعے فراڈ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ امریکی حکام نے بتایا کہ مبینہ فراڈ پاکستانی کال سینٹرز کی مدد سے جنوری 2023 سے اپریل 2025 کے دوران کیا گیا، جس میں کووڈ ٹیسٹ کٹس، طبی آلات اور جینیاتی ٹیسٹوں کے نام پر جعلی کلیمز جمع کرائے گئے۔ امریکی محکمہ انصاف نے کیس میں عامل علی عارف، شہریار عارف، فضا فرید، فیضان سلیم اور رک چاولیا کو نامزد کیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ ملزمان نے پاکستان میں ‘ہیلو انٹرنیشنل مارکیٹنگ سلوشنز’ نامی کال سینٹر کے ذریعے چوری، ہیکنگ اور جعلی ویب سائٹس کا سہارا لے کر امریکی شہریوں کا حساس طبی اور شناختی ڈیٹا حاصل کیا۔ حکام کے مطابق ملزمان نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال کرتے ہوئے صارفین کی آواز میں جعلی رضامندی کی آڈیو ریکارڈنگز تیار کیں تاکہ کلیمز کی منظوری حاصل کی جا سکے۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ کیس میں مجموعی طور پر 70 کروڑ ڈالر سے زائد کے جعلی کلیمز جمع کرائے گئے، جسے امریکی تاریخ کے بڑے ہیلتھ کیئر فراڈ کیسز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ امریکی تفتیشی اداروں کا کہنا تھا کہ مرکزی ملزمان میں سے کچھ کے پاکستان یا متحدہ عرب امارات (UAE) میں روپوش ہونے کا امکان ہے، جبکہ پاکستانی حکام بھی معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ Post navigation برطانیہ میں فضائی نظام درہم برہم، 1000 سے زائد پروازیں متاثر ایران نے انصار اللّٰہ سے متعلق امریکا کے الزامات مسترد کردیے