کراچی: قومی عوامی تحریک کے صدر اور سپریم کورٹ کے وکیل ایاز لطیف پلیجو نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے بھیجے گئے سوالنامے کا تفصیلی قانونی و آئینی جواب ارسال کر دیا ہے۔ ایاز لطیف پلیجو نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ وہ 10 اگست کو این سی سی آئی اے گلستانِ جوہر، کراچی میں تحقیقاتی ادارے کے سامنے پیش ہو چکے ہیں اور آئین و قانون کے مطابق ہر جائز تعاون کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این سی سی آئی اے کے سوالنامے میں مبینہ تقریر یا جرم سے متعلق بنیادی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، جن میں: تقریر کی تاریخ، وقت اور مقام تقریب کا پس منظر اور مکمل تقریر یا ٹرانسکرپٹ مبینہ طور پر جرم بننے والے مخصوص الفاظ ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ سوشل میڈیا اکاؤنٹ، لنک اور مواد اپلوڈ ہونے کی تاریخ شامل ہیں۔ ایاز لطیف پلیجو کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے سیاسی تقاریر اور خطابات کرتے رہے ہیں، اس لیے کسی مخصوص تقریر کی نشاندہی کے بغیر کسی نامعلوم بیان کے بارے میں اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی و سماجی انصاف، اظہارِ رائے اور فکر کی آزادی شہریوں کے بنیادی حقوق ہیں، جبکہ سیاسی تنقید یا حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کو صرف “اینٹی اسٹیٹ” قرار دے کر فوجداری جرم نہیں بنایا جا سکتا۔ قومی عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ ان کی تمام تقاریر کا مقصد سندھ اور پاکستان کے عوام، طلبہ، ہاریوں، خواتین اور محنت کشوں کو ان کے آئینی اور بنیادی حقوق سے آگاہ کرنا، اتحاد، تعلیم اور بہتر مستقبل کے لیے جدوجہد کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا کسی بھی گروہ کے خلاف خوف، بدامنی یا نفرت پیدا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس طرح ایاز لطیف پلیجو نے این سی سی آئی اے کے تمام 19 سوالات کے دلائل پر مبنی جوابات تحریری طور پر ارسال کر دیے ہیں۔ Post navigation صوبے بنانا آئی ایس پی آر کا کام نہیں، سندھ میں نیا صوبہ نہیں بنے گا: سعید غنی صوبوں کیلئے اگر ریفرنڈم ہونا ہے تو یہ معاملہ کابینہ میں زیر بحث لایا جائے گا: راناثناالل