سینیٹر اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے سماء ٹی وی کے پروگرام ’ریڈ لائن‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سے ملاقاتوں میں نہ کوئی چیز پکائی جارہی ہےنہ پک رہی ہے،بیرسٹر گوہر کی والدہ کے انتقال پر میں اسحاق ڈار اور طارق فضل تعزیت کیلئے گئے تھے۔ راناثنااللہ نے کہا کہ علامہ راجا ناصر عباس نے کہا اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں آپ سے ملاقات کرنی ہے، وزیر قانون اور طارق فضل چوہدری میرے ساتھ اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں گئے تھے، بات ہوئی کہ اپوزیشن لیڈر اور لیڈرآف دی ہاؤس کا رابطہ،ملاقات ہونی چاہیے، اپوزیشن لیڈر نے آئینی تقرری کیلئے وزیراعظم کو خط لکھا ہے، وزیراعظم اپوزیشن لیڈر کو ملاقات کی دعوت دینے والے ہیں، اپوزیشن لیڈر کو وزیراعظم ہاؤس جاکر ملاقات کرنے میں تحفظات تھے، میں نے اپوزیشن لیڈر کو کہا وزیراعظم ہاؤس ہماری ملکیت نہیں، میں نے کہا کسی اور جگہ وزیراعظم سے ملاقات کرنی ہے تو بتا دیں، شاید اپوزیشن لیڈر پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیراعظم سے ملاقات کا کہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر جس موضوع پر بات کرنا چاہیں وزیراعظم کی طرف سے کوئی قدغن نہیں ہو گی، ملاقات ہو گی تو راستہ نکلے گا،سیاستدان بیٹھتے ہیں تو راستہ نکلتا ہے، ہمارے پاس حل ہے،ہم بات بھی کرنے کیلئے تیارہیں، تحریک انصاف نے 27 ستمبر کا الٹی میٹم دیا ہوا ہے، ایک طرف 20 لاکھ بندوں کو اسلام آباد لانا چاہتے ہیں،دوسری طرف ملاقات کا کہتے ہیں، ملاقات ہو گی تو بات ہو گی کہ آپ کا کیا رویہ ہے، اسٹیبلشمنٹ صوبوں کے حوالے سے کوئی تجویز رکھے گی تو حکومت بات کرے گی، کسی بات پر اتفاق رائے ہو گا تو حکومت ایک مؤقف لے کر آئےگی۔ ان کا کہناتھا کہ بحث ہونا کسی بھی معاشرے میں اچھی چیز ہے، وفاقی وزیرصحت میرے لئے قابل احترام ہیں،انہوں نے 2 باتیں مبہم کیں، وفاقی وزیرصحت نے کہا 26 ویں اور 27 ویں ترمیم اچانک آئی تھی، 26ویں ترمیم پرہم ڈیڑھ ماہ مولانافضل الرحمان کے در پر بیٹھے رہے، کس طرح کہاجاسکتا ہے کہ 26 ویں ترمیم اچانک آئی، 26ویں ترمیم میں 56 ترامیم تھیں،پھر12،13پر اتفاق ہوا،آئینی بینچ کی تجویزپی ٹی آئی کی تھی،ہم متفق ہوئے تھے، 26ویں ترمیم متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی، میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کا ذکر تھا۔ راناثنااللہ نے کہا کہ باباڈیم نے ہمارے ساتھ جو سلوک کیا،ازخود نوٹس نے وزرائے اعظم کو ذلیل کیا، ہمیں 26 ویں ترمیم کا پتا تھا،ہم نے اس کیلئے اتفاق رائے کیا، 26ویں ترمیم کیلئے ہمارے ووٹ پورے نہیں تھے، 26ویں ترمیم میں جو چیزیں رہ گئی تھیں27ویں میں پوری کرلیں، وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال کو غلط فہمی ہوئی، مصطفیٰ کمال کا نئے صوبوں سے تعلق نہیں،ان کا مسئلہ صرف کراچی ہے، ایم کیو ایم صرف با اختیار بلدیاتی نظام چاہتی ہے،مصطفیٰ کمال کابینہ میں بات کریں گےتو پوچھ لیا جائے گا، صوبوں کی بات کرناجرم نہیں،آئین میں شق ہے صوبے بنائے جا سکتے ہیں، صوبوں کیلئے اگر ریفرنڈم ہونا ہے تو یہ معاملہ کابینہ میں زیربحث لایا جائے گا۔ Post navigation ایاز لطیف پلیجو نے این سی سی آئی اے کو دلائل پر مبنی قانونی و آئینی جواب ارسال کر دیا عالمی بینک نے سیلاب بحالی منصوبے پر تحفظات کا اظہار کردیا