ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہاہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کا ہدف ایران نہیں  ہے  ،  جب تک کوئی ملک رکن ممالک پر حملہ نہیں کرتاتب تک   کوئی بھی ہمارا ہدف نہیں ہوگا۔

ترک وزیر خارجہ کا کہناتھا کہ  دفاعی معاہدے کی نوعیت تکنیکی طور پر نیٹو کے آرٹیکل پانچ جیسی ہے ، معاہدے کے تحت نیٹو کی طرز پر وزرائے خارجہ کی ایک کمیٹی قائم کی جائے گی ، جنرل سیکریٹریٹ بھی قائم ہوگا۔

 ترک وزیرخارجہ نے ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا کو مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی پر ایران کو ہرجانہ دینا ہوگا۔ بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی سلامتی ہمارے مفادات سے جڑی ہے ۔ ترکیہ کو سعودی عرب کے بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہونا چاہیے۔