امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ویک اینڈ کے دوران مجوزہ حملہ مؤخر کرنےکا اعلان کرتے ہوئےکہا ایران اورخطے کےدیگرممالک کی درخواست پریہ فیصلہ کیا گیا،تاہم حملےکی منسوخی فوری معاہدے سے مشروط ہوگی۔ سوشل میڈیا پرجاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر جلد ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا تو فوجی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیل نے بھی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ امریکی صدرکا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار اور مستعد ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر کارروائی کا اختیار واشنگٹن کے پاس موجود ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف وہ کارروائی کرنے کے لیے تیار ہیں جو ماضی میں دیگر انتظامیہ نے نہیں کی،وہ نہیں سمجھتے کہ ایران نے آج تک ڈونلڈ ٹرمپ جیسے صدر کا سامنا کیا ہے۔ ایران اب انجام کے بغیر مذاکرات کی توقع نہ رکھے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سےرابطہ کرکے ایران کے خلاف ممکنہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے منصوبے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹس میں دو امریکی حکام اور ایک باخبرذریعے کےحوالے سے بتایاگیا ہےکہ محمد بن سلمان نےگفتگو کے دوران ایران سے متعلق پیدا ہونےوالی صورتحال پر وضاحت طلب کی اورخطےمیں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنےکی ضرورت پر زور دیا۔ Post navigation ٹرمپ ایران کے خلاف وہ کارروائی کرنے کو تیار ہیں جو دیگر انتظامیہ نے نہیں کی، مارکوروبیو ایران کا امریکی اوراسرائیلی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کا اعلان