کراچی : پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے رانا ثناء اللہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا پنجاب میں بلدیاتی الیکشن نہیں ہورہے تو لاہورکو بھی الگ صوبہ بنادیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان مشاورت جاری ہے اور دونوں جماعتوں میں کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی کی رہنما نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی کچھ نئی شرائط سامنے آئی ہیں جس پر تفصیلی مشاورت اور بجٹ فریم ورک بنانے پر کام ہو رہا ہے۔

شرمیلا فاروقی نے رانا ثناء اللہ کے حالیہ بیانات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ رانا ثناء اللہ کو حقائق پر بات کرنی چاہیے، ایسے بیانات سے عوام گمراہ ہوتی ہے۔

انہوں نے رانا ثناء اللہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی کے بلدیاتی نظام پر بات کر رہے ہیں جبکہ پنجاب میں تو بلدیاتی نظام سرے سے موجود ہی نہیں، ن لیگ جیسا بلدیاتی نظام چاہتی ہے پہلے اسے اپنے صوبے میں نافذ کر کے دکھائے۔

پی پی رہنما نے طنزاً کہا کہ اگر پنجاب میں بلدیاتی الیکشن نہیں ہو پا رہے تو پھر لاہور کو بھی الگ صوبہ بنا دیں۔

ایف بی آر کی کارکردگی اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر بات کرتے ہوئے پی پی رہنما نے کہا کہ بی آئی ایس پی کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بی آئی ایس پی صوبوں کو دے دیا گیا تو گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کا کیا بنے گا؟

شرمیلا فاروقی نے وفاق پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر ایف بی آر اپنا ٹیکس ٹارگٹ پورا نہیں کر پا رہا تو اس کا خمیازہ صوبے کیوں بھگتیں؟