تہران : ایران پر امریکا اسرائیل حملوں میں کینسر کی ادویات بنانے والی فیکٹری تباہ ہوگئی ، تباہی سے نہ صرف کینسر کے مریضوں کے لیے ادویات کی فراہمی متاثر ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس نے انکشاف کیا ہے کہ ایران پر حالیہ حملوں کے نتیجے میں کینسر کی ادویات تیار کرنے والی ایک اہم فیکٹری مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے، جس سے خطے میں طبی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ڈبلیو ایچ او نے اسے عالمی صحت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیکٹری کی تباہی سے نہ صرف کینسر کے مریضوں کے لیے ادویات کی فراہمی متاثر ہوگی بلکہ نئی زندگی بچانے والی ادویات کی تیاری کا عمل بھی شدید سست پڑ سکتا ہے۔ ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان حسین کرمان پور نے برطانوی میڈیا (اسکائی نیوز) کو انٹرویو دیتے ہوئے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کارروائی کو “عالمی صحت کے تحفظ پر براہِ راست حملہ” قرار دیا ہے ترجمان کا کہنا تھاکہ تباہ کیا گیا کمپلیکس بین الاقوامی سطح پر وبائی امراض سے لڑنے، ویکسینز پر تحقیق اور طبی خدمات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہا تھا، اس کی تباہی کا نقصان صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پوری دنیا کے طبی شعبے کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر جیسی موذی بیماری کی ادویات بنانے والے مراکز کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بین الاقوامی طبی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس واقعے سے ایران میں کینسر کے ہزاروں مریضوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ Post navigation ایران نے سعودی میں امریکی سفارت خانے پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کردی فضائی دفاعی کارروائی کا ملبہ دبئی انٹرنیٹ سٹی کی عمارت سے جا ٹکرایا