کیف: یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ ماسکو کی جانب سے فضائی حملوں کی نئی پالیسی کے جواب میں یوکرین روس کی تیل صاف کرنے والی ریفائنریوں پر حملے مزید تیز کر دے گا۔ یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ روس کی نئی پالیسی کا مقصد لوگوں کو کیف اور دیگر شہروں سے نقل مکانی پر مجبور کرنا ہے، تاہم اس کے جواب میں یوکرین روسی شہریوں کو نشانہ نہیں بنائے گا۔ ولویمیر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کی انٹیلی جنس سروسز نے ایسی دستاویزات حاصل کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے رواں موسم سرما سے قبل فوجی حملوں کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے شہری اہداف کی ایک بڑی تعداد کو نشانہ بنانے سے متعلق ’’نیا نظریہ‘‘ جاری کیا ہے۔ زیلنسکی نے روئٹرز کو ایک انٹرویو میں بتایا ’’ہم نے دستاویزات دیکھی ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ وہ انھیں انفرااسٹرکچر، لاجسٹکس اور بالخصوص شہروں، دیہات، سڑکوں، اسکولوں اور اسپتالوں پر حملے کی اجازت دیتی ہیں۔ لوگوں کو دارالحکومت اور مختلف شہروں سے نکلنے پر دباؤ ڈالنا اس کارروائی کا مقصد ہے۔‘‘ زیلنسکی کے مطابق روس کی پالیسی میں اس تبدیلی کے پیچھے پیوٹن کی یہ خواہش کارفرما ہے کہ وہ خود کو مضبوط ظاہر کریں، ایسے وقت میں جب روسی فوج ایک اہم محاذی خطے میں پسپائی کا سامنا کر رہی ہے اور اسے پہلے سے زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ واضح رہے کہ ہفتے کے روز روسی وزارت خارجہ نے غیر ملکی شہریوں کو کیف چھوڑنے کی ہدایت کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ماسکو یوکرین میں اہداف کو منظم انداز میں نشانہ بنانا جاری رکھے گا۔ روسی وزارت خارجہ نے ان حملوں کو حالیہ مہینوں میں روس پر یوکرین کے حملوں کے جواب میں کی جانے والی جوابی کارروائیاں قرار دیا۔ روس اور یوکرین دونوں ایک دوسرے کے خلاف حملوں میں شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہیں۔ Post navigation امریکا میں لاپتہ میڈیکل طیارے کا ملبہ تلاش کر لیا گیا سندھ کے بعد پنجاب میں بھی آٹا مزید مہنگا ہو گیا