ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے اسکیم 33 میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کراچی میں ایک بہت بڑے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ظلم کی سیاہ رات ختم ہونے والی ہے اور ریاست کے تمام ستون اب اس بات کو سمجھ چکے ہیں کہ ملک کو موجودہ گلے سڑے نظام کے ساتھ آگے نہیں چلایا جا سکتا۔

اہم نکات اور الزامات

  • نظام کی ناانصافیاں اور بغاوت: مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کے مظالم اور ناانصافیوں کی وجہ سے نوجوانوں نے ہتھیار اٹھائے۔ جب نوجوان تنگ آکر ایسا کرتے ہیں تو یہی حکومتیں فوج کو آپریشن کے لیے بلا لیتی ہیں۔ بلوچستان میں بھی نوجوان اسی صوبائی ناانصافی کی وجہ سے برگشتہ ہوئے۔
  • صوبائی اقتدار کی مرکزیت: انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم 100 سال بھی ووٹ نہ دیں، تب بھی ایک گٹر کا ڈھکن تک نہ لگانے والے وزیر اعلیٰ کو نہیں ہٹا سکتے۔ پانی کی فراہمی، جعلی ڈومیسائل، کوٹا سسٹم اور سیوریج جیسے تمام اختیارات وزیر اعلیٰ نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔
  • عوامی سڑکوں پر آنے کی اپیل: کراچی کے عوام اپنے مستقبل اور نسلوں کی بقا کے لیے سڑکوں پر نکلیں اور ایک ہی دن نکل کر ثابت کر دیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ حکمرانوں کی بکھلاہٹ بتا رہی ہے کہ ان کے اقتدار کا سورج ڈوبنے والا ہے۔

مالیاتی عدم مساوات اور بجٹ کے اعداد و شمار

مداتتفصیلات / رقم
وفاق سے صوبوں کا کل بجٹ8,884 ارب روپے
موجودہ بجٹ میں سندھ کا حصہ2,263 ارب روپے
گزشتہ 18 سالوں میں سندھ کو ملا فنڈ22,000 ارب روپے
سابقہ سٹی ناظم کے دور کا ترقیاتی بجٹ300 ارب روپے (جس کے کام آج بھی یاد کیے جاتے ہیں)

مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ پاکستان نے اپنی سرحدوں پر خود سے سات گنا بڑے دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیے، جبکہ سعودی عرب اور ترکیہ جیسے ممالک اپنا دفاع پاک فوج سے منسلک سمجھتے ہیں۔ لیکن اتنی بڑی عالمی کامیابیوں کے باوجود، اندرونی طور پر ہماری حالت افریقی ممالک سے بھی بتر ہو چکی ہے۔ سندھ کے حکمران غریبوں کا حق اور پانی بیچ کر لندن، امریکہ اور دبئی میں جائیدادیں بنا رہے ہیں۔