پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی باتیں اب گرم ہو رہی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وفاقی کابینہ میں ابھی تک اس حساس موضوع پر ایک بار بھی باقاعدہ بات نہیں ہوئی۔ بااثر حلقے تو انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی کے شدید حامی ہیں، مگر سیاسی اور عوامی مزاحمت کے باعث حتمی فیصلے سے پہلے بات آگے نہیں بڑھ پا رہی۔

اہم حکومتی وزراء کی آراء اور تجاویز

  • احسن اقبال (وزیر منصوبہ بندی): ملک کے چاروں صوبوں کو انتہائی مرکزیت پسند قرار دیتے ہوئے 12 سے 15 نئے صوبے بنانے کی تجویزم دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 26 کروڑ کی آبادی کو سنبھالنا موجودہ نظام کے بس کی بات نہیں، جبکہ ہر صوبے کو 3 logic بنیادوں پر تین حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 160 بااختیار ضلعی حکومتوں کا متبادل بھی پیش کیا ہے۔
  • محسن نقوی (وزیر داخلہ): عوام کو سہولیات اور انصاف کی فوری فراہمی کے لیے نظام میں بنیادی تبدیلی کے حامی ہیں۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) نے بھی بڑھتی آبادی کے پیش نظر “ایڈمنسٹریٹو ری سیٹ” پر بحث کی تائید کی ہے۔
  • خواجہ آصف (وزیر دفاع): 18ویں ترمیم کے عدم نفاذ پر تنقید کرتے ہوئے ملک کے 36 ڈویژنز کو انتظامی بنیاد بنانے کی تجویز دی ہے۔

سیاسی و صوبائی مزاحمت

  • سندھ کی مخالفت: سندھ اسمبلی نے صوبے میں کسی بھی نئے انتظامی یونٹ کی مخالفت میں قرارداد پاس کی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے سندھ کی تقسیم کی کسی بھی کوشش کے خلاف سخت مزاحمت کا اعادہ کیا ہے۔
  • آئینی و سیاسی رکاوٹیں: نیا صوبہ بنانا آئینی ترمیم اور متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کی منظوری کا مرہونِ منت ہے، جس کے لیے وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے ابھی تک مفقود ہے۔

موجودہ صورتحال

ذرائع کے مطابق فی الحال یہ تمام گفتگو صرف ابتدائی مرحلے میں ہے اور حکومت نے کوئی حتمی منصوبہ طے نہیں کیا۔ وزراء کے بیانات کا مقصد سیاسی اور ادارہ جاتی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے۔ کابینہ یا پارلیمنٹ میں کوئی بھی باضابطہ تجویز لانے سے قبل اتحادی جماعتوں اور دیگر سیاسی فریقین کو اعتماد میں لینا لازمی ہوگا۔