کراچی (31 مئی 2026): سندھ حکومت نے صوبے میں پانی کی مسلسل قلت اور (انڈس ریور سسٹم اتھارٹی) ارسا کے غیر منصفانہ رویے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروا دیا۔ سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے اپنے بیان میں کہا کہ ارسا کا طرزِ عمل 1991 کے آبی معاہدے کی خلاف ورزی اور سندھ کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے، سندھ گزشتہ کئی روز سے 22 فیصد پانی کی شدید اور تشویشناک قلت کا سامنا کر رہا ہے، گڈو بیراج پر 42 فیصد اور کوٹری بیراج پر 29 فیصد تک پانی کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کراچی جیسے معاشی مرکز کیلیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے، شہر قائد کو پانی کی فراہمی کا انحصار دریائے سندھ پر ہے یہاں کمی کا براہِ راست اثر شہر پر پڑتا ہے، شہر پہلے ہی پانی کی طلب اور رسد کے درمیان ایک بڑے فرق کا سامنا کر رہا ہے، ارسا شارٹیج ایکولائزیشن کے نام پر صوبے کا جائز حصہ مزید کم کر رہا جو ناقابلِ قبول ہے۔ غیر معمولی بارشوں سے دریائی نظام میں آنے والے اضافی پانی کو سندھ کے حصے سے منہا نہیں کیا جا سکتا۔ ارسا کے مسلسل فیصلوں سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا کہ سندھ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ 1991 کے واٹر اپورشمنٹ اکارڈ کے تحت سندھ کے حقوق کا ہر صورت مکمل تحفظ کیا جانا چاہیے۔ پانی کی تقسیم کے معاملے میں کسی بھی صوبے کو دوسرے صوبے کے حصے پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں قلت ہے جبکہ چشمہ جہلم اور تونسہ پنجند لنک کینالز کے ذریعے پانی منتقل کیا جا رہا ہے، جب صوبے کے بیراج اور نہریں خود قلت کا شکار ہیں تو پھر لنک کینالز کو ترجیح کیوں دی جا رہی ہے؟ پانی کی یہ قلت صرف زرعی مسئلہ نہیں بلکہ اب شہری زندگی کیلیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں کو پینے کے پانی کی فراہمی براہِ راست دریائے سندھ سے جڑی ہے۔ شرجیل میمن نے مزید کہا کہ کوٹری بیراج اور نہروں میں پانی کم ہونے کے اثرات کراچی کے واٹر سپلائی نظام پر مرتب ہوتے ہیں، پانی کی مسلسل کمی کے نتیجے میں شہریوں کو پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، پانی کی کمی کے یہ منفی اثرات کراچی کی صنعتوں اور مجموعی معاشی سرگرمیوں پر بھی پڑیں گے، سندھ کے عوام کو پانی سے محروم رکھنے کی یہ صورتحال کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں، وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ارسا کے ان جانبدارانہ فیصلوں کا فوری نوٹس لے۔ ’1991 کے معاہدے کے مطابق سندھ کو اس کا مکمل اور جائز حصہ دینے کیلیے وفاق اقدامات کرے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت صوبے کے عوام کے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ہر آئینی اور قانونی و جمہوری فورم پر سندھ کے حقِ آب کا بھرپور اور مؤثر دفاع جاری رکھا جائے گا۔ سندھ کے حصے کے پانی پر کسی قسم کی کٹوتی یا غیر منصفانہ تقسیم پورے صوبے کے مفادات کے خلاف ہے۔ صوبے کے عوام کا واضح مطالبہ ہے کہ ارسا کو اپنے ان فیصلوں پر فوری نظرثانی کرنا ہوگی۔ Post navigation وزیر دفاع کے فون کے باوجود لیسکو نے خراب ٹرانسفارمر کی درستی کیلیے 80 ہزار وصول کر لیے بلوچستان: پیٹرول کی قیمت 500 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی