واشنگٹن : امریکی میڈیا سی بی ایس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا آئندہ 3 روز مین ایران پر نئے حملوں کی تیاری کررہا ہے ، جس کے لئے وائٹ ہاؤس کے حکام کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سفارتکاری کے دعووں کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان جنگی بادل گہرے ہو گئے، امریکی میڈیا “سی بی ایس نیوز” نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ آئندہ 3 روز کے اندر ایران پر نئے حملوں کی بھرپور تیاری کر رہی ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

ذرائع نے بتایا کہ خطے میں پیدا ہونے والی اس غیر معمولی صورتحال کے باعث وائٹ ہاؤس کے سینیئر حکام، امریکی فوج اور انٹیلی جنس کمیونٹی کے اعلیٰ اہلکاروں کی ہفتہ وار تعطیلات فوری طور پر منسوخ کر دی گئی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنا ویک اینڈ نیو جرسی میں گزارنے کے بجائے ہنگامی طور پر وائٹ ہاؤس واپس پہنچ گئے ہیں۔

امریکی صدر نے رات گئے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے حساس صورتحال کی تصدیق کی اور لکھا کہ “حکومتی معاملات اور موجودہ نازک صورتحال کے باعث میں وائٹ ہاؤس میں رہنے پر مجبور ہوں، اسی وجہ سے میں اپنے بیٹے کی شادی میں بھی شرکت نہیں کر سکوں گا۔”

امریکی میڈیا کے ان دعووں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں شدید سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ نے بدھ کے روز پاکستان کے ذریعے ایران کو ایک ‘حتمی پیشکش’ بھیجی تھی اور ساتھ ہی انتباہ کیا تھا کہ معاہدہ مسترد کرنے کی صورت میں فوجی حملے دوبارہ شروع کر دیے جائیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا کہ ایران کا جواب پاکستانی فیلڈ مارشل کے ذریعے موصول ہونا متوقع ہے جو دونوں ممالک کے درمیان بنیادی ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی ریڈ لائنز واضح کر دی ہیں کہ ایران کبھی بھی نیوکلیئر ویپن حاصل نہیں کر سکتا۔

دوسری طرف ایران کی ‘پاسدارانِ انقلاب’ نے سخت وارننگ دی ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے کوئی حملہ کیا تو جنگ مشرقِ وسطیٰ سے باہر پھیل جائے گی اور وہ دشمن پر ایسا کاری وار کریں گے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔