کراچی (نیوز ڈیسک): محکمہ ورکس اینڈ سروسز سندھ میں جعلی ٹینڈرز اور کروڑوں روپے کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس پر صوبائی وزیر حاجی علی حسن زرداری نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی فوری انکوائری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق انجینئر عبداللہ مستوئی نے اسد شیخ نامی ٹھیکیدار کی کمپنی کو جعلی ٹینڈر کے تحت 5 کروڑ روپے منتقل کروائے، جس پر شدید سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ مزید برآں، سندھ سیکریٹریٹ کے مرمتی کاموں کے لیے جاری کردہ 1 ارب 40 کروڑ روپے کا ٹینڈر—جو پہلے ہی عدالت میں چیلنج ہے—اسے بھی خلافِ ضابطہ ریوائز کر کے 4 ارب روپے تک پہنچا دیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر حاجی علی حسن زرداری نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری طور پر تمام دستاویزات کے ساتھ دفتر طلب کر لیا ہے۔ Post navigation شہدادپور کے ہونہار طالب علم کا عالمی اعزاز گرفتاری کا خدشہ، میر رضا علی کے بزنس پارٹنر نے عدالت سے رجوع کرلیا