کراچی: محکمہ زراعت سندھ میں مبینہ غیر قانونی ترقیوں، پوسٹنگز اور انتظامی بے ضابطگیوں کے خلاف جاری کارروائیوں کو سینیئر صحافی شوکت زرداری کی مسلسل تحقیقاتی رپورٹنگ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

گزشتہ کئی ماہ سے شوکت زرداری نے محکمہ زراعت سندھ میں مبینہ طور پر قواعد کے خلاف ترقیوں، پسند و ناپسند پر مبنی تقرریوں اور انتظامی بے ضابطگیوں کے حوالے سے دستاویزی شواہد، سرکاری ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات عوام کے سامنے پیش کیے۔ ان رپورٹس میں متعدد افسران کے معاملات کو اجاگر کیا گیا اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔

حال ہی میں محکمہ زراعت سندھ نے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عدیل کے خلاف محکمانہ کارروائی مکمل کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا، جبکہ دوسری جانب نیب کراچی نے امداد میمن اور دیگر افسران کے سروس ریکارڈ، تقرریوں اور ترقیوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

مبصرین کے مطابق حالیہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ محکمہ زراعت سندھ میں احتساب اور شفافیت کے مطالبات اب عملی اقدامات کی صورت اختیار کر رہے ہیں۔ شوکت زرداری کی تحقیقاتی رپورٹنگ نے ان معاملات کو عوامی سطح پر اجاگر کرنے اور متعلقہ اداروں کی توجہ مبذول کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔احتسابی عمل کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میرٹ اور قانون کے مطابق مکمل ہوئیں تو محکمہ زراعت سندھ میں گورننس، شفافیت اور میرٹ کے فروغ کی راہ مزید ہموار ہوگی۔