ایران کی پارلیمان کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کو مسخرہ ٹولہ قرار دے دیا ہے۔ باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کا خیال ہے کہ ایران پر مزید دباؤ ڈال کر اسے ایسی رعایتیں دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے جو کبھی کسی معاہدے کا حصہ نہیں رہیں۔ انھوں نے دونوں امریکی شخصیات کا نام لیتے ہوئے ایکس پوسٹ میں لکھا کہ یہ دونوں معاملے کے لیے موزوں نہیں ہیں، امریکی انتظامیہ کو پہلے اپنے پیدا کردہ مسائل حل کرنے چاہئیں۔ Americans think squeezing Iran harder will win concessions that were never part of the agreement.Bessent and Hegseth are way out of their league. Stop waiting for the clown crew to pull a rabbit out of their hat and clean up the mess you made.— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) August 18, 2026 ایکس پر اپنی پوسٹ میں باقر قالیباف نے لکھا ’’امریکی سمجھتے ہیں کہ ایران پر مزید دباؤ ڈالنے سے وہ ایسی رعایتیں حاصل کر لیں گے جو کبھی معاہدے کا حصہ ہی نہیں تھیں۔ بیسنٹ اور ہیگسیتھ اپنی اہلیت اور تجربے کی حدود سے بہت باہر کام کر رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا ’’اس مسخرہ ٹولے کے کوئی کرشمہ دکھا کر اچانک مسئلہ حل کر دینے کا انتظار بند کریں اور جو گڑبڑ آپ نے خود پیدا کی ہے، اسے خود ہی درست کریں۔‘‘ Post navigation ایران کشیدگی بڑھنے کی صورت میں یورپ میں امریکی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے، فنانشل ٹائمز کا دعویٰ ایرانی سفارت کاروں کا ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے پر کرارا جواب