کراچی : سندھ حکومت نے ڈریپ سے فارمولا دودھ کے اشتہارات کی اجازت واپس لینے کا مطالبہ کردیا اور کہا ماں کے دودھ کے متبادل مصنوعات کی تشہیر پر زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت سندھ نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے فارمولا دودھ کے اشتہارات کی اجازت دینے کے فیصلے کو قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس اجازت کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔ محکمہ صحت سندھ نے کہا کہ ڈریپ کی حالیہ ہدایات ملک میں ماں کے دودھ کی حوصلہ شکنی کا باعث بن سکتی ہے، جو کہ بچوں کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ سندھ حکومت نے واضح کیا ہے کہ صوبے بھر میں بریسٹ ملک سبسٹیٹیوٹ کی تشہیر وفاقی اور صوبائی قوانین کے تحت ممنوع ہے ، ماں کے دودھ کے متبادل مصنوعات کی تشہیر پر زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے۔ صوبائی قوانین کے تحت سندھ میں 3 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے فارمولا دودھ کی کسی بھی قسم کی مارکیٹنگ، اشتہارات اور تشہیری مہمات کو باقاعدہ جرم قرار دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ الیکٹرانک، پرنٹ ، سوشل میڈیا پر فارمولا مصنوعات کے اشتہارات ممنوع ہیں، اس کے علاوہ کمپنیوں کی جانب سے کی جانے والی بالواسطہ تشہیر، اسپانسر شپ اور اسپتالوں کے طبی عملے کو تحائف دینے پر بھی سخت پابندی عائد ہے۔ حکومت نے انتباہ جاری کیا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کو بھاری جرمانوں کے ساتھ ساتھ قید کی سزا کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ پیدائش کے پہلے 6 ماہ تک بچوں کے لیے صرف اور صرف ماں کا دودھ ہی بہترین اور مکمل غذا ہے، اس لیے تجارتی فائدے کے لیے فارمولا دودھ کی مارکیٹنگ معصوم بچوں کی صحت سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ Post navigation پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں 200 ملین ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری خواتین کے لیے گھر بیٹھے ڈیجیٹل کورس کرنے کا سنہری موقع، مفت لیپ ٹاپ اور ماہانہ وظیفہ بھی دیا جائے گا