کراچی (سب نیا مانیٹرینگ ڈیسک): سندھ پبلک سروس کمیشن میں ہونے والی مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کے حوالے سے نامور وکیل اطہر عباس سولنگی نے ایک تہلکہ خیز انکشاف کر دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ کمیشن کی اس چور بازاری میں سہولت کاری فراہم کرنے کے عوض مبینہ طور پر ججوں کو بھی ان کا حصہ ملتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق: حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل کی لائیو نشریات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے معروف قانون دان اطہر عباس سولنگی نے سندھ پبلک سروس کمیشن کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے انتہائی سنسنی خیز بیان دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے اندرونی معاملات اور مبینہ کرپشن کے اس پورے نیٹ ورک میں صرف بیوروکریسی یا کمیشن کے افسران ہی نہیں، بلکہ سہولت کاری کے طور پر ججز تک مبینہ طور پر اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔

لائیو نشریات کے دوران دیے گئے اس سنگین نوعیت کے بیان نے عوامی، سیاسی اور قانونی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ قانونی ماہرین کی جانب سے ایک اتنے بڑے ادارے اور عدلیہ پر اس طرح کے براہ راست الزامات کو انتہائی تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے۔