قادر چانڈیو کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ قادر چانڈیو آج دادو جا رہے تھے کہ راستے میں 10 سے 15 جدید اسلحے سے لیس، سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔

اہلِ خانہ کے مطابق تاحال قادر چانڈیو سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو سکا، جبکہ ان کے موبائل فون بھی بند جا رہے ہیں، جس کے باعث خاندان شدید پریشانی اور خوف میں مبتلا ہے۔

خاندان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر قادر چانڈیو کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچا یا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کے مکمل ذمہ دار امداد ڈاوچ اور پرسنل سیکریٹری پیر مجیب ہوں گے۔

اہلِ خانہ نے انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافتی اداروں، وکلا، سول سوسائٹی اور سندھ کے باشعور عوام سے اپیل کی ہے کہ فوری آواز بلند کی جائے اور قادر چانڈیو کی محفوظ بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کیا جائے۔