امریکی وزیرخزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ 23 ستمبر سے دنیا بھر میں ایران کی تمام ایئرلائنز کی سروس بند کر دی جائیں گی، ایرانی ایئرلائنز کو کسی ایئرپورٹ پر لینڈنگ یا ایندھن کی سہولت نہیں ملےگی۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی ایئرلائنز کے ٹکٹ بھی اب فروخت نہیں کیے جا سکیں گے ایرانی ایئرلائنز کی مدد کرنے والی کمپنیاں ڈالر مالیاتی نظام سے باہرہوں گی۔

امریکی محکمہ خزانہ نے رواں ماہ 27ایرانی فضائی کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک اہم انٹرویو میں ایران کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ میں ایران کے بارے میں جلد فیصلہ کرنے والا ہوں، میں اس وقت فیصلہ سازی کے مرحلے میں ہوں۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مستقبل قریب میں بہت بڑے واقعات رونما ہوں گے، اس وقت میز پر موجود آپشنز میں ایران کا مکمل خاتمہ شامل ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ میز پر ایران کو معاشی طور پر تباہی کی طرف دھکیلنے کا آپشن بھی ہے اور آپشنزمیں ایران سے کوئی معاہدہ کرنا شامل ہے۔
ایران کے ساتھ نیا معاہدہ کرنا،

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “سوال یہ نہیں کہ آپشنز کیا ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان پر کب عمل درآمد کیا جائے اور آیا ایران کو مکمل طور پر تباہ کیا جائے یا نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت بہت بڑے واقعات رونما ہونے والے ہیں اور بہتر یہی ہوگا کہ ایران بروقت اپنا رویہ درست کر لے۔”