اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیاہے جس دوران سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں عالمی قوانین کی خلاف بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں جاری ہیں،گزشتہ  دہائی کے دوران کئی جنگیں شروع ہوئیں ،ان جنگوں کے تباہ کن دنیا بھر میں اثرات مرتب ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہیں جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور دیگر ارکان بھی ہمراہ ہیں ۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وزیراعظم شہبازشریف کا استقبال کیا ۔

سیکریٹری جنرل  اقوام متحدہ   نے کہا کہ  یہ جنگیں ہولناک بربریت کے ساتھ  اب بھی جاری رہیں،جنگوں کے دوران شہریوں کو نشانہ بنایا گیا،جنگوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئیں،بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا، فوجی طاقت سکیورٹی کی ضمانت نہیں دے سکتی،غزہ میں  جنگ بندی کے باوجود حالات کشیدہ ہیں،مغربی کنارے کی موجودہ صورتحال فلسطین کے دوریاستی حل میں رکاوٹ ہے،ہم اپنی آنکھوں کے سامنے دو ریاستی حل کو ختم نہیں ہونے دے سکتے۔

گوتریس نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں نسلی امتیاز کا خطرہ بڑھ رہا ہے،7 اکتوبر کے بعد غزہ میں بڑی تباہی ہوئی اور فلسطینیوں کی بڑی پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں،سوڈان میں اقتدار کی جنگ جاری ہے،سوڈان میں جاری جنگ  شہریوں کے خلاف جنگ میں تبدیل ہو چکی۔