ایران اور امریکا کے درمیان نئی جنگ کا خطرہ ٹالنے کیلئے سفارتی کوششیں تیز ہوگئی۔ دوحہ میں ایرانی اور قطری حکام کے ملاقات میں جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر بات چیت ہوئی، اس سے پہلے تہران میں بھی بارہ گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے، واشنگٹن سے بھی راطے برقرار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک کو امریکی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدے کا امکان ظاہر کیا ہے تاہم ایرانی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔ ساتھ ہی نئے حملوں کی بھی دھمکی دی دوسری جانب تہران کا موقف ہے کہ جب تک 7 شرائط پر عملدرآمد نہیں ہوتا براہ راست مذاکرات نہیں ہونگے۔ پاسدارانِ انقلاب نے بھی خبردار کیا ہے کہ دوبارہ جنگ ہوئی تو کارروائیاں ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فی الحال امریکی حکام سے ملاقات کا امکان مسترد کردیا، عباس عراقچی کے مطابق ایرانی شرائط تسلیم کیے جانے کے بعد ہی مذاکرات کی نوعیت طے ہوگی۔ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے جے ڈی وینس کا خط موصول ہونے کی تصدیق کی، ان کا کہنا ہے کہ امریکا کا لہجہ بدل چکا لیکن شرائط پوری ہوئے بغیر آبنائے ہرمز نہیں کھولے گی۔ Post navigation اسرائیل میں احتجاج: عوام کا عرب جماعتوں کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کا مطالبہ افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے دہشت گرد حملے تشویشناک ہیں ،مارکوروبیو