کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشرز میں مبینہ طور پر ایک اور بڑا مالی اسکینڈل سامنے آیا ہے، جہاں ’اینیمل بریڈنگ‘ (جانوروں کی افزائشِ نسل) کے نام پر مختص کیے گئے ڈیڑھ ارب روپے کے بھاری فنڈز میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق، صوبے میں مویشیوں کی نسل کشی اور جدت پسندی کے لیے جاری کیے گئے ڈیڑھ ارب روپے کے یہ فنڈز مبینہ طور پر کاغذی کارروائیوں کی نذر کر دیے گئے اس حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ فنڈز کی اس مبینہ بندربانٹ اور بدانتظامی کے خلاف اعلیٰ حکام اور تحقیقاتی اداروں کو شکایات موصول ہو چکی ہیں، جس کے بعد اس میگا اسکینڈل کی باقاعدہ انکوائری شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ مویشی پال مالکان کا کہنا ہے کہ اینیمل بریڈنگ سروسز کے نام پر ملنے والی گرانٹس کا فائدہ عام کسان تک پہنچنے کے بجائے مبینہ طور پر لائیو اسٹاک کے مخصوص افسران کی جیبوں میں چلا گیا ہے۔ Post navigation سہیل قریشی کے خلاف اینٹی کرپشن کا گھیرا تنگ، اربوں کا کیس تیار، نیب کی ممکنہ کارروائی سے بچانے کا پلان بے نقاب! پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں 200 ملین ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری