برلن: جرمنی کی بندرگاہ بریمرہیون پر اُس وقت ایک فلمی منظر جیسی صورت حال پیدا ہوئی جب ایک کروز شپ تیز ہواؤں کے باعث روانگی کے دوران 2 کنٹینر جہازوں سے جا ٹکرایا، یہ ڈرامائی منظر کیمرے میں محفوظ ہو گیا۔

25 اکتوبر کو ٹی یو آئی کمپنی کا کروز شپ ’’مائن شف 3‘‘ شمالی جرمنی کی بندرگاہ بریمرہیون سے تیز ہواؤں کے دوران روانہ ہونے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس نے ایک جہاز کے بیرونی ڈھانچے کو چیر ڈالا۔ خوف زدہ مسافر یہ منظر دیکھتے رہے۔

تصادم کے نتیجے میں ایک کنٹینر جہاز کے ڈھانچے میں 10 میٹر لمبا شگاف پڑ گیا، جب کہ کروز شپ کے ریسکیو بوٹس بھی متاثر ہوئیں، حادثے کے وقت جہاز پر مجموعی طور پر 2 ہزار 428 مسافر اور عملے کے 922 ارکان سوار تھے۔

خوش قسمتی سے کوئی زخمی نہیں ہوا، حادثے کے بعد کروز شپ واپس بندرگاہ پہنچا، جب کہ کینری جزائر کا طے شدہ سفر منسوخ کر دیا گیا۔ جہاز کو مرمت کے لیے شپ یارڈ بھیجا جائے گا، اور فی الحال تینوں متاثرہ جہازوں کو بندرگاہ سے روانگی کی اجازت نہیں۔

مسافر جہاز کے کنارے قطار میں کھڑے ہو کر یہ منظر دیکھ رہے تھے، جب کہ ٹگ بوٹس (کھینچنے اور راستہ دکھانے والی چھوٹی طاقت ور کشتیاں) 8 ہزار ٹن وزنی کروز شپ کو بندرگاہ پر لنگر انداز ایک بڑے کنٹینر بردار جہاز سے ٹکرانے سے بچانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

تصادم کی ویڈیو کلپس میں زور دار ٹکر کی آواز سنی جا سکتی ہے، جس کے بعد مسافر خوف زدہ ہو کر چیختے ہیں اور جہاز کے اس کنارے سے بھاگنے لگتے ہیں جہاں کھڑے ہو کر وہ واقعہ دیکھ رہے تھے۔

حادثے میں کئی لائف بوٹس اور کم از کم ایک کنٹینر بردار جہاز کو بھی نقصان پہنچا۔ اطلاعات کے مطابق، کنٹینر بردار جہاز کے بیرونی ڈھانچے میں تقریباً 10 میٹر طویل شگاف پڑ گیا۔