برلن: جرمنی کی بندرگاہ بریمرہیون پر اُس وقت ایک فلمی منظر جیسی صورت حال پیدا ہوئی جب ایک کروز شپ تیز ہواؤں کے باعث روانگی کے دوران 2 کنٹینر جہازوں سے جا ٹکرایا، یہ ڈرامائی منظر کیمرے میں محفوظ ہو گیا۔ 25 اکتوبر کو ٹی یو آئی کمپنی کا کروز شپ ’’مائن شف 3‘‘ شمالی جرمنی کی بندرگاہ بریمرہیون سے تیز ہواؤں کے دوران روانہ ہونے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس نے ایک جہاز کے بیرونی ڈھانچے کو چیر ڈالا۔ خوف زدہ مسافر یہ منظر دیکھتے رہے۔ تصادم کے نتیجے میں ایک کنٹینر جہاز کے ڈھانچے میں 10 میٹر لمبا شگاف پڑ گیا، جب کہ کروز شپ کے ریسکیو بوٹس بھی متاثر ہوئیں، حادثے کے وقت جہاز پر مجموعی طور پر 2 ہزار 428 مسافر اور عملے کے 922 ارکان سوار تھے۔ خوش قسمتی سے کوئی زخمی نہیں ہوا، حادثے کے بعد کروز شپ واپس بندرگاہ پہنچا، جب کہ کینری جزائر کا طے شدہ سفر منسوخ کر دیا گیا۔ جہاز کو مرمت کے لیے شپ یارڈ بھیجا جائے گا، اور فی الحال تینوں متاثرہ جہازوں کو بندرگاہ سے روانگی کی اجازت نہیں۔ A powerful wind gust sent a cruise ship drifting into two container vessels in Bremerhaven, Germany, on Sunday as Storm Boelo moved through the region. No injuries were reported, but officials said one of the container ships sustained "considerable damage" in the collision. pic.twitter.com/rEoezurBEJ— AccuWeather (@accuweather) October 26, 2026 مسافر جہاز کے کنارے قطار میں کھڑے ہو کر یہ منظر دیکھ رہے تھے، جب کہ ٹگ بوٹس (کھینچنے اور راستہ دکھانے والی چھوٹی طاقت ور کشتیاں) 8 ہزار ٹن وزنی کروز شپ کو بندرگاہ پر لنگر انداز ایک بڑے کنٹینر بردار جہاز سے ٹکرانے سے بچانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ تصادم کی ویڈیو کلپس میں زور دار ٹکر کی آواز سنی جا سکتی ہے، جس کے بعد مسافر خوف زدہ ہو کر چیختے ہیں اور جہاز کے اس کنارے سے بھاگنے لگتے ہیں جہاں کھڑے ہو کر وہ واقعہ دیکھ رہے تھے۔ New footage shows the moment TUI Cruises’ Mein Schiff 3 collided with the docked container ship MSC Victorine in Bremerhaven, Germany. Strong winds pushed the cruise ship sideways despite tugboats trying to assist pic.twitter.com/lELAkgnRbK— Surajit (@surajit_ghosh2) October 26, 2026 حادثے میں کئی لائف بوٹس اور کم از کم ایک کنٹینر بردار جہاز کو بھی نقصان پہنچا۔ اطلاعات کے مطابق، کنٹینر بردار جہاز کے بیرونی ڈھانچے میں تقریباً 10 میٹر طویل شگاف پڑ گیا۔ Post navigation لندن کی آکسفورڈ اسٹریٹ ٹریفک کیلیے بند، شاپنگ کریں آسانی سے! سعودی عرب کے بیشتر علاقوں میں جمعے تک بارش کا الرٹ جاری