سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے انتظامی ڈھانچے میں پھر بڑی تبدیلی کر دی گئی۔

ایس بی سی اے میں ٹاؤن سطح پر انتظامی ڈھانچہ پھر فعال کر دیا گیا۔ ایس بی سی اے نے کراچی میں 25 ٹائونز کی مناسبت سے انتظامی ڈھانچہ تشکیل دے دیا۔

اس سے قبل ڈسٹرکٹ سطح پر ایس بی سی اے کا انتظامی ڈھانچہ چلایا جاتا تھا۔

نئے انتظامی ڈھانچے کو چلانے کے لیے 25 ٹائونز میں ڈائریکٹر ، ڈپٹی و اسسٹنٹ ڈائریکٹر سمیت سنئیر بلڈنگ انسپکٹرز کی تعیناتی بھی کردی گئی۔

انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کا مقصد  بلڈنگ کنٹرول کے نظام کو مزید بہتر بنانا ، غیر قانونی تعمیرات کے روک تھام اور  ٹاؤن کی سطح پر امور کو شفاف طریقے سے چلانا ہے۔

ایس بی سی اے کے انتظامی ڈھانچے کو  بلدیہ ٹاؤن اور چنیسر ٹاؤن ، گڈاپ ٹاؤن اور مومن آباد ٹاؤن ، موریو میر بحر اور ناظم آباد، نارتھ کراچی اور نارتھ ناظم آباد ٹائون میں تقسیم کیا گیا ہے۔

اسی طرح اورنگی ٹاؤن اور صدر، صفورا اور شاہ فیصل ٹاؤن ، سہراب گوٹھ اور گلبرگ، گلشن اقبال اور ابراہیم حیدری ، جناح ٹاؤن اور کورنگی، لانڈھی  اور لیاقت آباد، لیاری اور ملیر، منگھوپیر ،  ماڑی پور اور ماڈل کالونی ٹائون شامل ہیں۔

ایس بی سی اے کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بلڈنگ ریگولیشنز کے نفاذ اور عوامی شکایات کے فوری ازالے میں مدد ملے گی۔

سابق ناظم کراچی نعمت اللہ خان اور مصطفی کمال کے ادوار میں یہی ٹائون سسٹم بحال تھا تاہم اُس وقت کراچی میں 18 ٹاؤنز تھے۔ 2010 میں منظور قادر کے بطور ڈی جی ایس بی سی اے تعیناتی کے بعد ٹائون سسٹم کو ختم کرکے ڈسٹرکٹ سطح پر نظام کو چلایا گیا۔