امریکی فوجیوں کا عراق سے انخلا مکمل ہونے پر ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جشن منایا گیا ہے۔ امریکا نے بدھ کے روز عراق سے اپنے انخلا کی تکمیل کا اعلان کر دیا۔ یہ پیش رفت صدام حسین کا تختہ الٹنے کے لیے ملک پر کی گئی چڑھائی کے 20 سال سے زائد عرصے بعد سامنے آئی ہے۔ اس اقدام کا خیرمقدم عراقی حکومت اور پینٹاگون نے تو کیا ہی، ساتھ ہی ایران اور اس کے اتحادیوں نے بھی اس پر جشن منایا ہے جنہوں نے کہا کہ برسوں کے دباؤ کے نتیجے میں ہی امریکا کو یہاں سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑا۔ عراق اس صدی کی سب سے بڑی امریکی جنگ کا مرکز رہا ہے جس میں 4,500 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ سن 2003 میں امریکی افواج کے ہاتھوں صدام حسین کے تختہ الٹے جانے کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری کے دوران 2 لاکھ سے زائد عراقی شہری بھی جاں بحق ہوئے۔ تہران اس انخلاء کو اپنے اتحادی مسلح گروہوں پر مشتمل “محورِ مزاحمت” کی فتح اور امریکی افواج کو خطے سے نکالنے کے اپنے مقصد کی جانب ایک پیش رفت کے طور پر دیکھتا ہے۔ شمالی عراق کے شہر اربیل میں موجود اپنے آخری فوجی اڈوں سے امریکی دستوں کے انخلا کے ساتھ ہی طویل عرصے سے منصوبہ بند انخلا مکمل ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت امریکہ اور پڑوسی ملک ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے ماحول میں سامنے آئی ہے۔ ایران کی حمایت یافتہ ایک ملیشیا، ’اصحاب الکہف‘ نے امریکی انخلا کا خیرمقدم کیا اور عراقی عوام کو “مزاحمتی قوتوں کے ڈرونز اور میزائلوں کے حملوں کے نتیجے میں امریکی قابض فوج کے ذلت آمیز انخلا” پر مبارکباد دی۔ عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے حوالگی کی تقریب کی صدارت کی اور امریکی انخلا کو ایک “نئے مرحلے” کا آغاز قرار دیا۔ ایک ایسا مرحلہ جس کی پہچان عراق کی خودمختاری، اس کے اداروں کی مضبوطی، افواج کی تیاری، فیصلہ سازی میں یکجہتی اور دوست ممالک کے ساتھ متوازن شراکت داری ہے۔ Post navigation اسرائیلی میڈیا نے فلائی دبئی واقعہ 11/9 کی کوشش قرار دے دیا امریکا کا 3 ایرانی کمانڈرز کی معلومات دینے پر کروڑوں ڈالرز انعام کا اعلان