واشنگٹن: امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری توانائی معاہدہ کانگریس کو بھیج دیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کے عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ سعودیہ کے ساتھ جوہری معاہدہ اسی صورت میں آگے بڑھ سکتا ہے جب سعودیہ ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو اور اسرائیل کو تسلیم کرے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ معاہدہ مکمل طور پر ابراہیمی معاہدوں میں سعودیہ کی شمولیت سے مشروط ہے امریکا غیرافزودہ سول جوہری تنصیبات کیخلاف نہیں ہے اُن کا کہنا تھا کہ امریکا، سعودی سول جوہری معاہدے میں جوہری مواد کی افزودگی شامل نہیں، سول جوہری معاہدہ صرف غیرفوجی استعمال کیلئے ہے ایسے سول جوہری معاہدے ایران، یواے ای و دیگر ممالک کے پاس پہلے سے ہیں Post navigation سعودی آرامکو اور فرانسیسی کمپنیوں کے درمیان اربوں ڈالرز کے معاہدے امریکا: سی آئی اے سربراہ جان ریٹ کلیف اچانک روس پہنچ گئے