ایران کے خلاف جنگ امریکا کیلئے سفارتی میدان میں تباہ کن ثابت ہوا۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادی سیکیورٹی کیلئے امریکا سے مایوس ہونے لگے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے ممالک سمجھتے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ امن کیلئے سفارتی عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں ناکام ہیں۔ عرب ممالک کو ان کی سرزمین پر قائم امریکی اڈے بھی بوجھ لگنے لگے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا سے بڑھتی ہوئی نا امیدی کے بعد عرب ممالک میں یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ اپنی سرزمین پر بڑے امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی جاری رکھنا مفید ہے بھی یا نہیں؟ مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنی سیکیورٹی کیلئے امریکا کا متابدلہ ڈھونڈ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے خلاف بارہا فوجی کارروائی کی دھمکیاں دیں، پھر مذاکرات میں پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے پیچھے ہٹ گئے۔ خلیجی ممالک اب اس طویل ہوتی جنگ کے حق میں نہیں ہیں۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا مشترکہ دفاعی معاہدہ اس کا عملی ثبوت ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی اتحادیوں کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف امریکی اقدامات ان کو محفوظ کرنے کے بجائے مزید عدم تحفظ سے دوچار کررہے ہیں۔ امریکی اتحادی سمجھتے ہیں کہ امریکا کا طرزِ عمل انہیں محفوظ بنانے کے بجائے مزید غیر محفوظ کر رہا ہے۔