ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہےکہ آبنائے ہرمز کے لیے نئے بحری راستے وضع کرلیے گئے ہیں، ایران اور عمان کے درمیان عالمی گزرگاہ کے حوالے سے معاہدہ حتمی شکل کے قریب پہنچ گیا ہے۔ عباس عراقچی کےمطابق ایران اور عمان نئے شپنگ لینز پر کام کر رہے ہیں تاکہ بحری آمدورفت کو متبادل راستوں کے ذریعے جاری رکھا جاسکے۔ امریکی اخبار کےمطابق ایران نےآبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیےشرائط بھی پیش کردی ہیں،ایران نےامریکا سے خطےسے اپنی فوج واپس بلانے،جنگی نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنے اورمنجمد ایرانی اثاثے بحال کرنےکا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق آبنائےہرمز سے متعلق آئندہ اقدامات خطے کی سلامتی اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے انتظامات سے مشروط ہوں گے۔ دوسری جانب ایرانی فوج کےترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نےکہا ہےکہ امریکا کو آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کو قبول کرنا ہوگا،ایران اپنے مؤقف سے پیچھےنہیں ہٹےگا،آبنائےہرمزکی نئی صورتحال کو نظر انداز کرنےکی کوشش کی گئی تودشمن کوبھاری قیمت چکاناہوگی،آبنائےہرمز سے متعلق ایران کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئےگی،ایرانی مسلح افواج نئے نظام کے نفاذ تک اپنی پوزیشن پر ڈٹی رہیں گی۔ انہوں نےکہاکہ ایرانی فوج میزائل اورڈرون لانچنگ مقامات پرموجود ہےاورملک کے دفاع کے لیے آخری سانس تک لڑنے کا عزم رکھتی ہے۔ Post navigation امریکا کو آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال قبول کرنا ہوگی، ایرانی فوج آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدو رفت کیلئے راستہ بنانے پر کام جاری ہے: جے ڈی وینس