مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجی اہلکاروں سے ان کے موبائل فون واپس لینے پر غور کرنے کی وجہ سامنے آگئی۔ خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں تعینات اہلکاروں سے موبائل فون واپس لینے پر غور کر رہی ہے، جبکہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے فوجیوں کو آپریشنل سکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ امریکی کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے اپنے بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی گئیں ویڈیوز ایران کو امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے میں مدد دے سکتی ہیں، تہران خبروں، تصاویر اور موبائل فون سے بنی ویڈیوز سے حملوں کے نتائج کا اندازہ لگا رہا ہے، اوپن سورس معلومات کی قیمت فوجیوں اور شہریوں کی جانوں کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اردن میں تعینات امریکی فوجیوں سے آئندہ چند روز میں موبائل فون واپس لیے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے موبائل فون ضبط کیے جانے کی خبروں کو صرف سکیورٹی ہدایات اور یاد دہانی قرار دیا۔ واضح رہے کہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملے کے دوران امریکی فوجی کی ریکارڈ کی گئی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر ہوئی تھی۔ ایڈمرل بریڈ کوپر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ میٹا اسمارٹ گلاسز سے بنائی گئی ویڈیو میں امریکی فوجیوں کو بنکر کی جانب جاتے دیکھا گیا، تصاویر اور ویڈیوز ایران کیلیے جنگی نقصان کے جائزے کا ذریعہ بن رہی ہیں، عوامی طور پر جاری معلومات ایران کو مزید مؤثر جوابی حملوں میں مدد دے سکتی ہیں۔ Post navigation امریکا نے ایران کےخلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا پراسرار وبا کا خوف : امریکا میں ریستوران ویران ہوگئے