مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باعث جمعہ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے اور ایران کی جانب سے حوثی تحریک کو بحیرہ احمر کے راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی اطلاعات نے سرمایہ کاروں کے خدشات بڑھا دیے۔ برینٹ خام تیل کے فیوچر 1.05 ڈالر یا تقریباً 1.25 فیصد اضافے کے ساتھ 85.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.03 ڈالر یا 1.3 فیصد بڑھ کر 79.98 ڈالر فی بیرل ہوگیا، یوں گزشتہ سیشن کے نقصانات پورے ہوگئے۔ دونوں عالمی بینچ مارک اس ہفتے تقریباً 12 فیصد مہنگے ہوچکے ہیں۔ برینٹ مسلسل تیسرے ہفتے اور ڈبلیو ٹی آئی مسلسل دوسرے ہفتے اضافے کی جانب گامزن ہے۔ عالمی منڈی کے زیراثر آئندہ ہفتے کے لیے پاکستان میں ڈیزل 40 روپے اور پیٹرول 8 روپے فی لیٹر مہنگا ہونے کا امکان ہے تاہم قیمتوں میں ہونے والے اس اضافے کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی میں کمی کا امکان ہے۔ دوسری جانب نیشنل کمیٹی آن مانیٹرنگ اینڈ کوآرڈینیشن نے بعض بدعنوان مارکیٹ عناصر کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اوگرا کو متعلقہ اور ضروری کارروائیاں کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ Post navigation بلڈر سے 5 کروڑ بھتہ طلب، نہ دینے پر جان سے مارنے کی دھمکی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 40 روپے فی لیٹر تک اضافے کا خدشہ