دمشق (07 جولائی 2026): شام کے دارالحکومت دمشق میں دو دھماکوں میں 4 پولیس اہلکاروں سمیت 18 افراد زخمی ہو گئے۔

شامی سرکاری میڈیا کے مطابق منگل کے روز دمشق میں اُس ہوٹل کے قریب دو بم دھماکے ہوئے جہاں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون ملاقاتیں کر رہے تھے، تاہم فرانسیسی صدر کے دفتر کا کہنا ہے کہ میکرون نے دھماکوں کی آواز نہیں سنی اور اس کے فوراً بعد انھوں نے شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات کی۔

دھماکے ہوٹل کے قریب نصب دھماکا خیز مواد پھٹنے کے باعث ہوئے، جس کے بعد متاثرہ علاقے کی سڑکیں فوری طور پر بند کر دی گئیں اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا، دھماکوں کی آوازیں دور تک سنی گئیں، دھماکے سے گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی، اور جائے وقوعہ سے دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔

واضح رہے فرانسیسی صدر اس وقت شام کے دورے پر موجود ہیں، ابتدائی اطلاعات کے مطابق فوری طور پر دھماکوں کی نوعیت یا وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم فرانسیسی ایوانِ صدر کا کہنا ہے کہ صدر میکرون کے قافلے تک دھماکوں کی آواز نہیں پہنچی اور وہ مکمل طور پر محفوظ ہیں اور دمشق میں صدر میکرون کا طے شدہ پروگرام تبدیل نہیں ہوگا۔

روئٹرز کے مطابق یہ دھماکے شام کو درپیش سنگین سیکیورٹی چیلنجز کی نشان دہی کرتے ہیں، میکرون کسی بڑے یورپی یونین ملک کے پہلے سربراہِ مملکت ہیں جنھوں نے 2024 میں احمد الشرع کی قیادت میں باغیوں کی جانب سے بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد شام کا دورہ کیا ہے۔

دھماکے شام کی وزارتِ سیاحت اور قومی عجائب گھر کے درمیان مصروف علاقے میں ہوئے، جو فور سیزنز ہوٹل کے سامنے واقع ہے، جہاں میکرون سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقات کر رہے تھے۔

دھماکے کی فوٹیج


پہلا دھماکا اس وقت ہوا جب میکرون کا قافلہ صدارتی محل کی جانب روانہ ہو چکا تھا۔ روئٹرز کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دوسرے دھماکے کی فوٹیج ریکارڈ ہونے سے چند میٹر کے فاصلے پر ایک کوڑے دان سے آگ کے شعلے اور دھواں اٹھ رہا تھا۔

دوسرا دھماکا جائے وقوع پر کھڑی ایک ایمبولینس کے قریب ہوا، جہاں تقریباً دو درجن افراد جمع تھے۔ قریبی دکانوں کے عقب سے آگ کے شعلے اور گاڑھا سیاہ دھواں اٹھتا دیکھا گیا، جب کہ امدادی اہلکار آگ بجھانے میں مصروف تھے۔

روئٹرز کی ویڈیو میں دھماکوں سے قبل میکرون کے قافلے کو شاہراہ کے ذریعے صدارتی محل کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ بعد میں جاری ہونے والی تصاویر میں وہ احمد الشرع کے ساتھ کھڑے اور دیگر شامی حکام اور فوجی افسران سے ملاقات کرتے نظر آئے۔

دھماکے کی آواز نہ سننے کی تصدیق


شام کے سرکاری ٹی وی الاخباریہ نے ایک سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ داخلی سیکیورٹی فورسز نے دھماکوں کے ذمہ داروں کی شناخت کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ایک سیکیورٹی ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ دھماکوں کے بعد سڑکیں بند کر دی گئیں اور سخت حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے گئے۔

فرانسیسی ایوانِ صدر کا کہنا ہے کہ صدارتی قافلے کو ان دھماکوں کی آواز سنائی نہیں دی۔ روئٹرز کے اس صحافی نے بھی، جو میکرون کے ہمراہ موجود پریس گروپ کا حصہ تھا، فرانسیسی صدر کی صبح کی مصروفیات کے دوران نہ کوئی دھماکا سنا اور نہ ہی کسی ہلچل کا مشاہدہ کیا۔ فرانسیسی ایوانِ صدر کے مطابق میکرون نے دن بھر کے اپنے طے شدہ پروگرام پر عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔