اسلام آباد: پارلیمانی امور کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے آڈٹ پر سوالات اٹھا دیے گئے اور ایک شخص سے 5 ہزار 558 خواتین کی رجسٹریشن کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں چیئرمین رانا ارادت شریف خان کی زیرِ صدارت پارلیمانی امور کی قائمہ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس کے دوران بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے آڈٹ اور شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے گئے ہیں۔

اجلاس کے دوران رکن کمیٹی نکت شکیل نے آڈٹ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایک سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ آڈٹ کے دوران ایک ایسا ریکارڈ سامنے آیا ہے جہاں ایک ہی شخص سے 5 ہزار 558 مستفید خواتین کی رجسٹریشن منسلک ظاہر ہو رہی ہے۔

رکن کمیٹی نکت شکیل نے اس غیر معمولی بے ضابطگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی فوری اور مکمل اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے غریب اور مستحق افراد تک حکومتی امداد اور سبسڈی کی بالکل درست اور شفاف فراہمی حکومت کی اولین آئینی ذمہ داری ہے، لہٰذا اس معاملے کے پیچھے موجود حقائق کو سامنے لایا جائے۔

اجلاس میں عوامی شکایات کے ازالے کے نظام پر سخت سوالات اٹھائے گئے، کمیٹی نے ‘وزیراعظم پبلک افیئرز اینڈ گریونس ونگ’ کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ طلب کرتے ہوئے شکایات کے حل کی ٹائم لائن اور طریقہ کار پر وضاحت مانگی۔

ارکان نے خواتین کی بائیومیٹرک تصدیق، سروے کے مسائل اور شکایت سیل کی سست کارکردگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

اجلاس میں سیکرٹری پارلیمانی امور نے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ملک بھر میں سب سے زیادہ عوامی شکایات صوبہ پنجاب سے موصول ہوئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شکایات کے ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کر کے متعلقہ اداروں کو سفارشات بھیجی جا رہی ہیں، نظام کو بہتر بنانے کے لیے اب شکایت کنندگان سے فیڈبیک لینے، شکایات کے حل کی تصدیق کرنے اور کم از کم 20 فیصد کیسز میں لازمی فالو اپ کالز کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

اس کے علاوہ بینکنگ اور سمندر پار پاکستانیوں کی شکایات مقررہ وقت میں متعلقہ اداروں کو منتقل کی جا رہی ہیں۔

پارلیمانی امور کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ریلوے اراضی سے متعلق زیرِ سماعت ایک اہم مقدمے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی، ریلوے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس اہم کیس کی آئندہ سماعت کی تاریخ ابھی عدالت کی جانب سے مقرر نہیں کی گئی ہے۔

وزارتِ پارلیمانی امور کے حکام نے اراضی کے تحفظ کے حوالے سے کی گئی قانونی کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس معاملے میں متعلقہ ہائی کورٹ سے باقاعدہ حکمِ امتناع حاصل کیا جا چکا ہے تاکہ سرکاری اراضی کو محفوظ بنایا جا سکے۔

مزید برآں معاملے کی گہرائی سے انکوائری اور ملوث عناصر کا تعین کرنے کے لیے یہ پورا کیس وفاقی تحقیقاتی ادارے کو بھی بھجوا دیا گیا ہے، جہاں اس پر قانونی تفتیش جاری ہے