لاہور : صوبے بھر میں بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن مستقل طور پر مفت کرنے کی تیاری کرلی گئی ، جس سے متوسط طبقے کو ریلیف ملے گا۔

تفصیلات کے مطابق حکومتِ پنجاب نے شہریوں کو بڑی سہولت فراہم کرتے ہوئے صوبے بھر میں بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن فیس کو مستقل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

اس سلسلے میں محکمہ لوکل گورنمنٹ پنجاب نے باقاعدہ ایک اہم سمری منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کو بھجوا دی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس نئی تجویز کا مقصد برتھ رجسٹریشن فیس کا صوبے سے مستقل بنیادوں پر خاتمہ کرنا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال پنجاب کابینہ نے شہریوں کی سہولت کے لیے اس فیس میں صرف ایک سال کے لیے عارضی چھوٹ دینے کی منظوری دی تھی، تاہم اب اس عارضی استثنیٰ کو مستقل پالیسی بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ سمری چیف سیکرٹری پنجاب کے دفتر سے ہوتی ہوئی حتمی منظوری کے لیے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو ارسال کر دی گئی ہے، جس کی کابینہ سے توثیق کے بعد باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے پیچھے دو اہم ترین مقاصد ہیں ، ایک شہریوں کے لیے سول رجسٹریشن سروسز کے حصول کو بغیر کسی مالی بوجھ کے انتہائی آسان بنانا اور ہر بچے کو پیدائش کے ساتھ ہی اس کی قانونی شناخت کا حق فراہم کرنا ہے۔

حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ رجسٹریشن فیس کے مستقل خاتمے سے بالخصوص غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف ملے گا اور صوبے میں بچوں کی پیدائش کا صد فیصد درست اور بروقت ریکارڈ مرتب کرنے میں مدد ملے گی۔

برتھ سرٹیفکیٹ کیوں ضروری ہے؟

پیدائش کا سرٹیفکیٹ ایک بنیادی قانونی دستاویز ہے جس کے بغیر کسی بھی بچے کا شناختی ریکارڈ بننا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ سرٹیفکیٹ بچے کی نادرا میں رجسٹریشن (ب فارم)، اسکولوں میں داخلے، پاسپورٹ بنوانے، وراثت کے دعووں اور حکومت کے مختلف فلاحی و صحت کے پروگراموں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے لازمی شرط ہے۔