کراچی (26 جون 2026): قائد آباد میں 3 سال کی بچی سے زیادتی اور قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد 13 افراد کے ڈی این اے سیمپل حاصل کرلیے گئے۔

کراچی کے علاقے قائد آباد میں قتل کی جانے والی 3 سال کی بچی کے پوسٹ مارٹم میں زیادتی اور تشدد کی تصدیق ہوگئی۔

پولیس حکام کے مطابق مقتولہ کے قریبی رشتے داروں اور محلے داروں کے ڈی این اے سیمپلز لئے گئے ہیں، جنہیں ٹیسٹ کیلئے لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے۔

ٹیسٹ رپورٹ آنے کے بعد تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا، اس سلسلے میں 5 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا تھا تاہم تفتیش کے بعد ان میں سے 2 افراد کو رہا کر دیا گیا،

یاد رہے کہ واقعے کا مقدمہ تھانہ قائد آباد میں بچی کے والد کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے جس میں اغوا، زیادتی اور قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مدعی مقدمہ کے مطابق میری بیٹی گھر سے باہر گئی اور واپس نہیں آئی تو اہلیہ نے کال کی، ہم نے بچی کو تلاش کیا لیکن کچھ پتہ نہیں چل سکا۔

بچی کے والد کا کہنا ہے کہ رات میں گھر پہنچے تو محلے میں ہجوم تھا، محلے والوں نے بتایا کہ نامعلوم افراد بیٹی کی لاش بوری میں پھینک کر گئے ہیں، میرے والد نے تصدیق کی کہ لاش میری بیٹی کلثوم کی ہی تھی۔