کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک): شہید امتیاز کے ورثاء اور لواحقین کی جانب سے انصاف کے حصول کے لیے شروع کی گئی بھوک ہڑتال آج پانچویں روز میں داخل ہو گئی ہے، تاہم حکومتی ایوانوں میں تاحال مجرمانہ خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ مظاہرین نے موجودہ حکومت کی بے حسی پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام کے دکھ درد سے ناآشنا قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، شہید امتیاز کے اہل خانہ اپنے مطالبات کے حق میں مسلسل پانچ دن سے سراپا احتجاج ہیں اور کھلے آسمان تلے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ ورثاء نے انتہائی دکھ اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اربابِ اختیار کی سنگ دلی کا یہ عالم ہے کہ اب تک کسی بھی حکومتی نمائندے نے ان کے کیمپ میں آ کر انہیں دلاسہ دینے یا ان کے دکھ کا مداوا کرنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی۔

احتجاجی کیمپ سے عوام کے نام جاری کیے گئے ایک سخت پیغام میں مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس ظلم پر خاموشی کا انجام برا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے عوام سے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ، “اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاؤ، ورنہ یاد رکھو کہ کل اگلی باری تمہاری بھی ہو سکتی ہے۔”

مظاہرین نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور شہید کے خون کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا، ان کی یہ بھوک ہڑتال اور پرامن احتجاج اسی طرح جاری رہے گا۔