واشنگٹن (07 مئی 2026): امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کے قریب ہیں، امریکی میڈیا ایکسیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران جنگ ​​کے خاتمے کے لیے ’ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط ہو سکتے ہیں۔

میڈیا نے دو امریکی عہدے داروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وائٹ ہاؤس کو یقین ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک صفحے پر مشتمل مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر معاہدے کے قریب پہنچ چکا ہے، جس سے جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا اور جس کا مقصد مزید تفصیلی جوہری مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک طے کرنا ہے۔

امریکا کو توقع ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے کئی اہم نکات پر جواب موصول ہوگا۔ ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا، تاہم ذرائع کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے فریقین اس وقت سب سے زیادہ معاہدے کے قریب ہیں۔

تاہم ایکسیوس کا کہنا ہے کہ اس یادداشت میں شامل کئی نکات ایسے ہیں جو ایک حتمی معاہدے سے مشروط ہوں گے، جس کے باعث دوبارہ جنگ چھڑنے یا ایسی طویل غیر یقینی صورت حال کا امکان برقرار رہے گا جس میں کھلی جنگ تو رک جائے مگر بنیادی مسائل حل نہ ہوں۔

وائٹ ہاؤس کا ماننا ہے کہ ایرانی قیادت اندرونی طور پر تقسیم کا شکار ہے اور مختلف دھڑوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ بعض امریکی حکام اب بھی اس بات پر شکوک رکھتے ہیں کہ ابتدائی معاہدہ بھی ہو پائے گا یا نہیں۔ امریکی حکام اس سے قبل بھی مذاکرات کے مختلف مراحل اور موجودہ جنگ کے دوران معاہدے کے حوالے سے پرامید رہے ہیں، مگر اب تک کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

موجودہ شکل میں یہ معاہدہ خطے میں جنگ کے خاتمے اور 30 روزہ مذاکراتی دور کے آغاز کا اعلان کرے گا، جس کے دوران آبنائے ہرمز کھولنے، ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے، اور امریکی پابندیاں اٹھانے پر تفصیلی معاہدہ طے کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات اسلام آباد یا جنیوا میں ہو سکتے ہیں۔

ایک امریکی اہلکار کے مطابق، ان 30 دنوں کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر عائد پابندیاں، اور امریکی بحری ناکہ بندی مرحلہ وار ختم کی جائیں گی۔ اگر مذاکرات ناکام ہو گئے تو امریکی افواج دوبارہ ناکہ بندی نافذ کرنے یا فوجی کارروائی بحال کرنے کی مجاز ہوں گی۔

امریکا ایک ایسی شق شامل کرنا چاہتا ہے جس کے تحت اگر ایران افزودگی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرے تو پابندی کی مدت مزید بڑھ جائے۔ پابندی ختم ہونے کے بعد ایران کو 3.67 فی صد تک کم سطح کی افزودگی کی اجازت ہوگی۔ معاہدے کے تحت ایران اس بات کا بھی وعدہ کرے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا، اور نہ ہی ہتھیار سازی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہوگا۔

ایک امریکی اہلکار کے مطابق فریقین اس شق پر بھی بات کر رہے ہیں کہ ایران زیرِ زمین جوہری تنصیبات کو فعال نہیں کرے گا۔ ایران مزید سخت معائنہ جاتی نظام قبول کرے گا، جس میں اقوامِ متحدہ کے انسپکٹرز کے اچانک معائنے بھی شامل ہوں گے۔ اور اس کے بدلے امریکا ایران پر عائد پابندیاں مرحلہ وار ختم کرے گا، اور دنیا بھر میں منجمد ایرانی فنڈز میں سے اربوں ڈالر مرحلہ وار جاری کرے گا۔

معاملے سے باخبر دو ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے، جو امریکا کی ایک اہم ترجیح رہی ہے اور جسے تہران اب تک مسترد کرتا آیا ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق زیرِ غور تجاویز میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ یہ مواد امریکا منتقل کیا جائے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو کہا ’’ضروری نہیں کہ پورا معاہدہ ایک ہی دن میں تحریر کر لیا جائے۔ یہ ایک نہایت پیچیدہ اور تکنیکی معاملہ ہے۔ لیکن ہمیں ایک ایسا سفارتی حل درکار ہے جو واضح کرے کہ وہ کن موضوعات پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور ابتدائی مرحلے میں کس حد تک رعایت دینے پر آمادہ ہیں تاکہ یہ عمل نتیجہ خیز بن سکے۔‘‘ تاہم روبیو نے ایران کی اعلیٰ قیادت کے بعض افراد کو ’’ذہنی طور پر پاگل‘‘ بھی قرار دیا اور کہا کہ یہ واضح نہیں کہ آیا وہ معاہدہ کریں گے یا نہیں۔