اماراتی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر میزائلوں اور ڈرون سے حملے کیے گئے ہیں۔

وزارت دفاع کے مطابق ایرانی حملوں کے تناظر میں متحدہ عرب امارات کا فضائی دفاعی نظام  متحرک ہو گیا ہے اور ایران سے آنے والے میزائلوں اوت ڈرون حملوں سے نمٹا جا رہا ہے۔

وزارت نے بتایا کہ مختلف علاقوں میں دھماکے فضائی دفاعی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں، دفاعی نظام بیلسٹک، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو روک رہا ہے۔

فجیرہ

ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران کا فجیرہ میں آئل فیسلٹی پر حملے کا پہلے سے کوئی ارادہ نہیں تھا۔

سرکاری میڈیا کے ساتھ دیگر ایرانی میڈیا نے بھی سینئر فوجی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران کا یو اے ای پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا، ایرانی فوج متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی۔

تاہم، میڈیا نے بتایا کہ ایرانی فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے سوچے سمجھے بغیر کوئی اقدام کیا تو اس کے مفادات ایران کا ہدف ہوں گے، یو اے ای کو معلوم ہے کہ وہ شیشے کے گھر میں بیٹھا ہے، اور ناقص سیکیورٹی یو اے ای کے لیے مہلک خطرہ ہے۔

سرکاری میڈیا نے بتایا کہ سینئر ایرانی فوجی حکام کے مطابق فجیرہ واقعہ امریکی مہم جوئی کا نتیجہ ہے، امریکا نے آبنائے ہرمز سے غیر قانونی گزرگاہ بنائی جس پر یہ واقعہ ہوا، سینئر ایرانی فوجی حکام کا کہنا ہے امریکا کو واقعے کا ذمہ دار قرار دیا جائے۔

ادھر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اماراتی صدرشیخ محمد بن زید النہیان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے امارات پر بلاجواز ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی، اور اماراتی سلامتی و استحکام کے دفاع کے لیے مملکت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا دونوں رہنماؤں نے تازہ ترین علاقائی پیش رفت کا جائزہ لیا۔

قطری وزارت خارجہ نے بھی رد عمل میں کہا کہ امیر قطر نے متحدہ عرب امارات کے صدر سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے ایرانی حملے کی مذمت کی ہے، اور یو اے ای کے ساتھ مکمل یکجہتی اور سلامتی کے اقدامات کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔