تہران(4 مئی 2026): ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ میڈیا کی جانب سے 14 نکاتی تجاویز من گھڑت ہیں، ایران نے ایسی کوئی پیشکش نہیں دی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ جنگ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور خطے کے تمام ممالک اس حقیقت سے آگاہ ہیں۔

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ اس جنگ میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر شامل تمام ممالک ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازع نے نہ صرف دنیا بلکہ خود یورپ کو بھی بھاری اقتصادی نقصان پہنچایا ہے اور اب یورپی رہنما بھی ان معاشی نقصانات کا اعتراف کر رہے ہیں۔

امریکی رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ایران امریکی جواب کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم امریکا اپنی عادت کے مطابق نامعقول مطالبات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، جو سفارتی کوششوں کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ایران کی پوری توجہ اس وقت جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے، لیکن ماضی کے تجربات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایٹمی مذاکرات کے دوران بھی ایران پر حملے کیے گئے۔

اسماعیل بقائی نے میڈیا میں گردش کرنے والی 14 نکاتی تجاویز کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے ایسی کوئی پیشکش نہیں کی، تاہم تہران خطے میں اجتماعی امن کی بحالی کی ہر تجویز کا خیرمقدم کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں فیصلہ سازی کا عمل انتہائی شفاف ہے اور باقر قالیباف کی سربراہی میں وفد نے اسلام آباد میں ایران کا ذمہ دارانہ موقف واضح کر دیا ہے۔

ترجمان نے اسرائیل کے ساتھ بعض علاقائی ممالک کے تعلقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی رجیم کے ساتھ دوستی ماضی میں بھی عدم استحکام کا باعث بنی اور مستقبل میں بھی اس کے نتائج ناخوشگوار ہی ہوں گے۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی مصلحت کے بغیر اقدامات کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے۔