وائس چانسلر کی دھمکیوں کے بعد مبینہ طور پر گواھ نے اپنی گواھی بدل دی، واضح رہے آواز اٹھانے پر وی سی سندھ مدرسہ یونیورسٹی پہلے ہی پروفیسرز کو اختیارات کے غلط استعمال سے سزائیں دے چکے ہیں کچھ کی تو نوکریاں کھائی گئی ہیں۔ صوبائی محتسب سندھ کے سامنے زیر سماعت شکایت نمبر 49/2025 میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کیس کے گواہ عرفان علی کاندھرو نے ایک نیا حلف نامہ جمع کراتے ہوئے اپنے پہلے بیان کے بعض حصوں کی وضاحت اور جزوی دستبرداری کر دی ہے۔ حلف نامے میں عرفان علی کاندھرو نے کہا ہے کہ ان کے پہلے بیان میں جو ٹیلیفونک گفتگو آصف حسین سمو سے منسوب کی گئی تھی، وہ الفاظ لفظ بہ لفظ ریکارڈ نہیں تھے، اس لیے وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ الفاظ اسی انداز میں کہے گئے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حصے کو ثابت شدہ حقیقت نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں ذاتی طور پر کسی ایسے منصوبے، ہدایت یا نیت کا علم نہیں جس کے تحت آصف حسین سمو، قرۃالعین نازر یا ڈاکٹر سانیہ تبسم نے شکایت کنندہ کو ہراساں کرنے، اس کا ریکارڈ خراب کرنے یا اس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہو۔ ان کے مطابق انہوں نے خود بھی کسی ایسے عمل کا مشاہدہ نہیں کیا جو کام کی جگہ پر ہراسانی کے زمرے میں آتا ہو۔ گواہ نے اپنے پہلے حلف نامے کے ان حصوں کو واپس لینے کی درخواست کی ہے جن سے ملزمان کے خلاف کسی نیت یا مقصد کا تاثر پیدا ہوتا تھا، اور کہا ہے کہ یہ وضاحت انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے دی جا رہی https://www.facebook.com/ZardariShoukatAli Post navigation اسرائیلی اقدامات خطے میں جاری امن کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں،پاکستان پاکستانی نوجوانوں کے پاس 25 لاکھ روپے جیتنے کا سنہری موقع ، کرنا کیا ہوگا