فیصل آباد (6 اپریل 2026): ایوان صنعت وتجارت کے صدر فاروق یوسف کا کہنا ہے کہ اگر پٹرول کی قیمتیں کم نہ کی گئیں تو صنعتیں بند ہو جائیں گی۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق فیصل آباد چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں نے پٹرول پر 80 روپے فی لیٹر لیوی کم کرنے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پٹرول کی قیمتیں کم نہ کی گئیں تو صنعتیں بند ہو جائیں گی۔ صدر ایف سی سی آئی فاروق یوسف نے کہا کہ حکومت کے پاس 28 دن کا ایندھن کا ذخیرہ موجود تھا پھر بھی قیمتیں بڑھا دی گئیں۔ جنگ کے بہانے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال پر حکومت نے وزرا کو بلایا لیکن بزنس کمیونٹی کو لوپ میں نہیں لیا گیا، کاروباری طبقے کو اسٹیک ہولڈر کیوں نہیں سمجھا گیا۔ صدر ایف سی سی آئی نے کہا کہ خام مال کی قیمتوں میں 45 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ شپنگ کمپنیوں نے وار چارجز لگا دیے ہیں، جس سے لاگت بڑھ گئی۔ پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 100 فیصد تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ فاروق یوسف نے مزید کہا کہ موٹر سائیکل اورگڈز ٹرانسپورٹ کے لیے ریلیف کے نام پر نیا طریقہ اپنایا گیا ہے اور حکومت نے سبسڈی کے نام پر کرپشن کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ کیونکہ حقیقی لوگوں تک تو آج تک کبھی سبسڈی نہیں پہنچی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر پٹرول مہنگا کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ سبسڈی کے بجائے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی جائے۔ پٹرول اور ڈیزل سے لیوی ختم کر کے قیمتیں اصل سطح پر لائی جائیں۔ اس کے علاوہ حکومت فوری طورپرجامع قومی برآمداتی پالیسی متعارف کرائے۔ صدر ایف سی سی آئی نے کہا بجلی خطے کے دیگر ممالک سے مہنگا ہونے کے سبب ہماری برآمدات نہیں بڑھ رہیں۔ آئندہ بجٹ میں بجلی سستی نہ کی گئی تو انڈسٹری کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔ Post navigation موٹر سائیکل سوار ماہانہ 2000 روپے کے لیے گھر بیٹھے کیسے اپلائی کرسکتے ہیں؟ نیا طریقہ سامنے آگیا دودھ کی قیمت میں من مانا اضافہ! اب ایک لیٹر کتنے کا ملے گا؟