تہران (06 اپریل 2026): ایران نے اتوار کو تصاویر اور ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں ایران کے اندر ایک فارورڈ آپریٹنگ بیس پر تباہ کیے گئے امریکی فوجی طیارے کا جلا ہوا ملبہ دکھایا گیا ہے، جو ایک گرائے گئے F-15E کے عملے کے رکن کو بچانے کے دوران تباہ ہوا۔ ترکیہ ٹوڈے کے مطابق ویڈیو سے یہ تصدیق ہوتی ہے کہ کم از کم 2 عدد C-130 ٹرانسپورٹ طیارے اور ایک MH-6 لٹل برڈ خصوصی آپریشنز ہیلی کاپٹر تباہ کیے گئے۔ امریکی مؤقف کے مطابق ان طیاروں کو اس لیے خود تباہ کیا گیا تاکہ ان کی ٹیکنالوجی ایرانی ہاتھوں میں نہ جائے، جب کہ تہران کا کہنا ہے کہ انھیں ایرانی افواج نے تباہ کیا ہے۔ ایران کی تسنیم اور فارس نیوز ایجنسیوں نے اصفہان کے جنوبی علاقے میں ملبے کی جگہ سے تصاویر اور ویڈیوز کے کئی سیٹ شائع کیے، جن کا عنوان تھا: ’’تبس دوبارہ دہرایا گیا۔‘‘ یہ 1980 کے ناکام آپریشن ایگل کلا (Eagle Claw) کی طرف اشارہ ہے، جس میں ایران کے صحرا میں طیاروں کے ٹکرانے سے 8 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اوپن سورس تجزیہ کاروں نے جاری کردہ ویڈیوز کا جائزہ لے کر تصدیق کی کہ ملبہ امریکی فضائیہ کے MC-130J ’’کمانڈو II‘‘ خصوصی آپریشنز طیاروں سے مطابقت رکھتا ہے، جو خفیہ دراندازی اور دشمن کے علاقے سے فوجیوں کو نکالنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ کم از کم ایک MH-6 لٹل برڈ ہیلی کاپٹر بھی ملبے میں نظر آیا، جو ہلکا پھلکا خصوصی آپریشنز طیارہ ہے اور ایلیٹ کمانڈو یونٹس استعمال کرتے ہیں۔ اس کا دم والا حصہ مرکزی ملبے سے الگ پڑا ہوا تھا۔ تجزیہ کاروں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران متعدد MC-130J طیاروں کو سینٹکام کے آپریشنل علاقے کی طرف جاتے ہوئے ٹریک کیا گیا تھا امریکی حکام پہلے ہی تصدیق کر چکے تھے کہ ریسکیو آپریشن کے دوران 2 ٹرانسپورٹ طیارے ایک دور دراز بیس پر پھنس گئے تھے اور کمانڈرز کے حکم پر انھیں جان بوجھ کر تباہ کر دیا گیا۔ تمام عملے کو نکالنے کے لیے تین متبادل طیارے بھیجے گئے تھے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ ناکارہ ہونے والے طیارے دو MC-130J تھے، جب کہ فوکس نیوز کے مطابق کم از کم ایک طیارہ، ممکنہ طور پر C-130 ہرکولیس بھی تباہ ہو۔ ایرانی فوج نے کہا کہ تباہ کیے گئے امریکی طیارے کے ملبے میں پائلٹ کی جلی ہوئی کھوپڑی بھی تصویر میں واضح ہے، اس کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے فوری طور پر ان دعوؤں کی تردید کی، واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ کوئی عملہ ہلاک نہیں ہوا اور یہ طیارے آپریشن کے دوران تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے جان بوجھ کر تباہ کیے گئے تھے، اور تہران کا دعوہ درست نہیں کہ انھیں مار گرایا گیا۔ یہ تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں، کچھ صارفین نے کہا کہ ان میں کھوپڑی دکھائی دے رہی ہے، جب کہ دیگر نے انھیں جعلی یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار شدہ قرار دیا۔ ان تصاویر کی اصلیت کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی، اور امریکی حکام نے بھی مخصوص تصاویر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ Post navigation ٹرمپ کی دھمکی مجرمانہ ذہنیت کی عکاسی ہے، اسماعیل بقائی کا انٹرویو پاکستان کا تیار کردہ امن منصوبہ امریکا اور ایران کو موصول، روئٹرز