تہران (4 اپریل 2026): ایران کی جانب سے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو تحفہ دیا گیا ہے جو بحری جہاز کے آبنائے ہرمز سے گزرنے دیے جانے کی صورت میں ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک فرانسیسی بحری کنٹینر، عمان سے منسلک تین ٹینکرز اور جاپان کی ملکیت میں ایک گیس بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں، جب کہ کچھ دیگر جہاز بھی اس متنازع آبی گزرگاہ عبور کر رہے ہیں۔ جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک نے جمعہ کے روز بتایا کہ فرانسیسی شپنگ کمپنی سی ایم اے سی جی ایم کا کنٹینر جہاز اس آبنائے سے گزرنے والا پہلا مغربی جہاز ہے، جب سے ایران نے مؤثر طور پر اس راستے کو بند کیا ہے۔ مالٹا کے پرچم تلے چلنے والا جہاز کریبی (Kribi)، جو سی ایم اے سی جی ایم کی ملکیت ہے، 2 اپریل کو آبنائے ہرمز سے گزرا، یہ جہاز عمان کے ساحل کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف جا رہا ہے، ایران نے فرانس کے لیے بہ طور تحفہ اسے محفوظ راستہ دیا۔ عمان شپنگ مینجمنٹ کے زیر انتظام دو بڑے خام تیل بردار جہاز اور ایک ایل این جی ٹینکر بھی جمعرات کو خلیج سے باہر نکلے، یہ معلومات میرین ٹریفک اور ایل ایس ای جی کے ڈیٹا سے سامنے آئیں۔ جاپان کی کمپنی متسوئی او ایس کے لائنز نے جمعہ کو بتایا کہ ایل این جی ٹینکر سوہار ایل این جی، جس میں اس کی مشترکہ ملکیت ہے، آبنائے ہرمز عبور کر چکا ہے۔ یہ 28 فروری کے بعد یہاں سے گزرنے والا پہلا جاپان سے منسلک جہاز اور پہلا ایل این جی بردار جہاز ہے۔ تیل اور مائع قدرتی گیس، ایل این جی کے لیے یہ اہم ترین بحری راستہ جنگ کے آغاز سے ہی ایران کی جانب سے تقریباً مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ ڈیٹا کمپنی لائیڈز لسٹ انٹیلیجنس کے مطابق یکم مارچ سے اب تک تقریباً 150 جہاز، جن میں ٹینکرز اور کنٹینر شپ شامل ہیں، اس آبنائے سے گزر چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق ایران اور چین، بھارت اور پاکستان جیسے ممالک سے تھا۔ منگل کے روز بیجنگ نے اظہارِ تشکر کیا جب اس کے تین جہاز آبنائے سے گزرے، جن میں دو کنٹینر جہاز پیر کے روز سرکاری شپنگ کمپنی کوسکو کے تھے۔ Post navigation پائلٹ کی تلاش میں جانے والے امریکی ہیلی کاپٹر اور ڈرون جہاز بھی ایرانی حملے میں تباہ ایران نے سعودی میں امریکی سفارت خانے پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کردی