اسلام آباد : حکومت نے موٹر سائیکلوں اور رکشوں کو سستے پیٹرول کی فراہمی کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کی تیاری شروع کردی، جس کے لئے دو آپشنز زیر غور ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر 300 ارب روپے کی ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

وزارتِ خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے اس اسکیم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے چاروں صوبوں سے مالیاتی تعاون کی درخواست کی ہے۔

وفاق نے صوبوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سبسڈی اسکیم کے لیے اپنے بجٹ سے 154 ارب روپے کی رقم مختص کریں تاکہ عام آدمی پر پیٹرولیم مصنوعات کا بوجھ کم کیا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس اس وقت دو اہم آپشنز زیرِ غور ہیں ، پہلا آپشن: عالمی منڈی میں قیمتوں کا بوجھ براہِ راست صارفین پر منتقل کر دیا جائے جبکہ دوسرا آپشن دو اور تین پہیہ گاڑیوں (موٹر سائیکلوں اور رکشوں) کو سستا ایندھن فراہم کیا جائے۔

تجویز ہے کہ موٹر سائیکلوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر اور رکشوں کے لیے 30 لیٹر تک سبسڈی دی جائے۔

اس مجوزہ اسکیم کے لیے 6 ہفتوں کے دوران تقریباً 300 ارب روپے درکار ہوں گے، حتمی فیصلے کے لیے صدرِ مملکت، وزیراعظم اور چاروں وزرائے اعلیٰ کا اہم اجلاس آئندہ ہفتے متوقع ہے۔

دوسری جانب ذرائع نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں ایندھن کا موجودہ ذخیرہ مئی کے پہلے ہفتے تک گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔