گھوٹکی: سندھ کے ضلع گھوٹکی کے علاقے عادلپور کے قریب گاؤں وزیر چاچڑ میں انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 15 سالہ لڑکی حوران چاچڑ کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کی گئی۔ متاثرہ لڑکی اپنے والد غلام شبیر چاچڑ اور والدہ یاسینہ کے ہمراہ سکھر نیشنل پریس کلب پہنچی اور اپنی دردناک داستان سنائی۔ متاثرہ خاندان کے مطابق 3 مئی کو لڑکی اپنے والدین کے ساتھ کھیت میں گھاس کاٹ رہی تھی کہ علاقے کے بااثر افراد مشتاق چاچڑ، نثار چاچڑ، امیر چاچڑ، ضمیر چاچڑ اور دیگر مسلح افراد انہیں اغوا کرکے اوطاق پر لے گئے۔ متاثرہ لڑکی کا الزام ہے کہ ملزمان نے نشے کی حالت میں اسے کپڑوں سے محروم کرکے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ اس کے والدین کو یرغمال بنا کر ان کے سامنے ظلم کیا جاتا رہا۔ یہ بھی الزام ہے کہ ملزمان اس انسانیت سوز عمل کی ویڈیوز بھی بناتے رہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ وہ انصاف کے لیے عادلپور اور گھوٹکی پولیس کے پاس گئے، مگر پولیس نے بااثر وڈیروں کے خلاف کارروائی سے معذوری ظاہر کی۔ خاندان نے خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ احتجاجاً انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ آخر سندھ میں بیٹیوں کی عزت، غریب لوگوں کی جان اور انصاف کب تک غیر محفوظ رہیں گے؟ Post navigation سرکاری افسران کے اثاثے دسمبر 2026 تک ڈیکلئر کرنے کا فیصلہ بحریہ ٹاؤن کراچی کو بڑا جھٹکا: گڈاپ میں 67 ایکڑ سے زائد قیمتی اراضی سیل!