کراچی (27 جون 2026): سندھ حکومت کی جانب سے صوبے کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے بچوں کے ڈرگ ٹیسٹ لازمی قرار دیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ صوبے کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے بچوں کے ڈرگ ٹیسٹ لازمی قرار دینے پر غور کر رہے ہیں، تعلیمی اداروں میں منشیات کے ٹیسٹ نہ ہونے پر تنقید کی گئی، لیکن اب اس کی اشد ضرورت ہے۔ ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ کچھ لوگ ڈرگ ٹیسٹ کو منفی رنگ دے کر کہتے ہیں کہ اس سے بچوں کو نقصان ہوگا، ڈرگ ٹیسٹنگ کے عمل کو باقاعدہ قانونی تحفظ فراہم کر رہے ہیں، سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز ریگولیشن اینڈ کنٹرول آرڈیننس 2001 میں ترمیم کر دی، نجی تعلیمی اداروں کے 2005 کے رولز کے پیرا 20 میں اہم ترامیم کی گئی ہیں۔ صوبائی وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ منشیات کا سب سے بڑا نشانہ 14 سے 18 سال کی عمر کے نو عمر بچے بن رہے ہیں، نئی نسل کو منشیات سے بچانے کیلیے تعلیمی اداروں میں ہنگامی بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ کوکین ڈیلر انمول سے متعلق کچھ لوگوں نے کہا تھا کہ یہ چھوٹ جائے گی، لیکن واضح کرنا چاہتا ہوں کہ منشیات کا کاروبار کرنے والا کوئی نہیں بچ پائے گا، پنکی ہو یا کوئی بھی منشیات کا کاروبار کرنے والے پکڑے جائیں گے۔ ضیا الحسن لنجار نے دعویٰ کیا کہ کراچی ایئرپورٹ پر کوئی بھی کوکین باہر سے نہیں آ رہی، لاہور اور پشاور کے ہوائی اڈوں پر منشیات اترتی ہے جسے روکنا چاہیے۔ Post navigation کراچی، یونیورسٹی روڈ پر موسمیات چورنگی کے قریب شدید فائرنگ چیلنج کرتا ہوں پورے سندھ میں ایک بھی سڑک خراب نہیں ہے، شرجیل میمن