تہران (23 مئی 2026): ایرانی وزارت دفاع نے واضح کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے بصورت دیگر امریکا کو مزید نقصان ہوگا۔

ترجمان ایرانی وزارت دفاع نے جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ امریکی اور اسرائیلی اتحاد کیلیے جنگ اور سفارتکاری دونوں میں ناکامی لکھی گئی ہے، ایران کے مطالبات تسلیم کرنا ہی تنازع سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کی تجویز قبول کرنی چاہیے مزید نقصانات سے بچ سکیں گے، جنگ جاری رکھنے سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو مزید نقصان ہوگا۔

گزشتہ روز ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی سرکاری چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں ایٹمی پروگرام پر بات نہیں ہوگی، فی الحال ہمارا فوکس جنگ کے خاتمے پر ہے جبکہ لبنان کی جنگ بندی ہمارے لیے انتہائی اہم ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ایٹمی پروگرام کے بارے میں ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے، ہم این پی ٹی رکن ہیں اور یورینیم کی افزودگی ہمارا قانونی حق ہے، مذاکرات میں امریکا نے ایٹمی پروگرام پر بات کرنے کی کوشش کی تو انہیں ناکامی ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ فی الحال ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ امریکا سے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، امریکا اور ایران میں اختلافات انتہائی زیادہ اور گہرے ہیں، گزشتہ دو سے تین ماہ میں واشنگٹن ایسی چیزوں کا مرتکب ہوا جس سے خلیج بڑھی، یہ نہیں کہہ سکتے کہ چند بار کے آنے جانے یا چند ہفتوں کے مذاکرات سے کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارت کاری کے عمل کیلیے ابھی مزید وقت لگے گا، دونوں فریقین ہر مذاکراتی موقع سے اپنا مؤقف بیان کرنے کیلیے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ترجمان ایرانی مذاکراتی ٹیم نے گفتگو میں یہ بھی بتایا تھا کہ آج قطر سے بھی ایک مذاکراتی وفد تہران پہنچا لیکن ہمارے مذاکرات کا اصل ثالث پاکستان ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے امریکی محاصرے کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں۔