واشنگٹن (8 مئی 2026): امریکا اور ایران تنازع کا مستقل حل نہیں نکلا ہے ہے ایسے میں ٹرمپ نے ایران جنگ کا دیگر جنگوں سے موازنہ پیش کر دیا۔ ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات پر شکوک کے بادل چھا رہے ہیں اور فریقین اب تک مسلسل جنگ بندی کے لیے کسی متفقہ معاہدے پر آمادہ نہیں ہوئے ہیں۔ ٹرمپ جو اس حوالے سے روز نت نئے بیانات دے رہے ہیں کبھی ایران کو دھمکی تو کبھی جلد معاہدہ ہونے کی نوید سنا رہے ہیں۔ گزشتہ روز بھی انہوں نے ایران کے ساتھ جلد معاہدہ طے ہونے کی امید ظاہر کی۔ تاہم اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کے خلاف جنگ کا ان دیگر جنگوں سے موازنہ پیش کر دیا جو امریکا نے گزشتہ 50 برسوں میں دنیا کے مختلف ممالک سے لڑی ہیں۔ امریکی صدر نے یہ موازنہ ایک گراف کی صورت میں پیش کیا ہے۔ اس گراف میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ جنگ 6 ہفتے جاری رہی جبکہ افغان جنگ 543 ہفتے جاری رہی تھی۔ عراق کی جنگ 457 ہفتے اور ویتنام کی جنگ 439 ہفتے تک جاری رہی، حالانکہ تاریخی طور پر یہ اس سے کہیں زیادہ طویل تھیں۔ واضح رہے کہ امریکا اور ایران پاکستان کی ثالثی میں عارضی جنگ بندی کے بعد ایک معاہدے پر متقق ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم فریقین کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور کے بعد دوسرا دور اب تک نہیں ہوا ہے۔ امن معاہدے میں بڑی رکاوٹ جوہری توانائی، آبنائے ہرمز جیسے بڑے ایشوز پر دونوں فریقین کا متفق نہ ہونا ہے۔ Post navigation امریکی حملوں کے باوجود ایران کے پاس اب بھی 70 فیصد بیلسٹک میزائل اور 75 فیصد موبائل لانچرز محفوظ ہونے کا انکشاف برطانیہ کا جنگی بحری جہاز مشرق وسطیٰ میں تعینات کرنے کا اعلان